World
آبِ ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے اور تیل کی ترسیل میں کمی
آبِ ہرمز میں جاری تنازع کے دوران بحری جہازوں پر حملوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی تجارت کے اس اہم ترین روٹ پر سیکیورٹی خدات کے باعث تیل کے ٹینکرز کی آمدورفت میں بڑی گراوٹ آئی ہے۔
عالمی تجارت کی اہم ترین شہ رگ سمجھے جانے والے آبِ ہرمز میں بحری جہازوں کو شدید سیکیورٹی خدشات اور خطرات کا سامنا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران اس خطے میں بحری جہازوں پر حملوں کی لہر میں انتہائی خطرناک اضافہ دیکھا گیا ہے، جو موجودہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کا بدترین ترین دور قرار دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سمندری راستوں پر سفر کرنے والے تجارتی بحری بیڑوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق سیکیورٹی کے ان سنگین مسائل کی وجہ سے جہاز رانی کمپنیاں شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ آبِ ہرمز کے راستے ہونے والی تیل کی ترسیل میں ایک بار پھر بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ سے دنیا بھر کے مختلف ممالک کو تیل اور دیگر توانائی کے ذرائع پہنچانے والے ٹینکرز کو اس سمندری راستے پر مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔ تیل کی رسد میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں پر بھی گہرے اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے بین الاقوامی معیشت کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایرانی سیکیورٹی فورسز اور خطے میں سرگرم دیگر فریقین کی جانب سے اسٹریٹجک آبنائے پر نگرانی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ تجارتی جہازوں کے لیے اس آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانا عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اگر صورتحال جلد کنٹرول میں نہ لائی گئی تو عالمی توانائی کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، کیونکہ دنیا کا ایک بڑا حصہ اپنی تیل کی ضروریات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتا ہے۔