LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارۂ میں مسجد کو آگ اور اسرائیلی چھاپے

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں نے ایک مسجد کو نذر آتش کر دیا جبکہ ایک الگ واقعے میں نابلس کے قریب ایک کم عمر لڑکے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ علاقے میں اسرائیلی فورسز کے مسلسل چھاپوں اور پرتشدد کارروائیوں سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی کی لہر میں اس وقت مزید شدت آ گئی جب اسرائیلی آباد کاروں نے ایک مقامی مسجد کو نذر آتش کر دیا۔ اس دلخراش واقعے نے پورے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا مقامی آبادی کے لیے انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت اقدام ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق اس شرمناک واقعے کے بعد علاقے میں فضا انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے اور فلسطینیوں میں گہرا غم پایا جاتا ہے۔ ایک الگ اور تشویشناک واقعے میں، نابلس کے جنوب میں واقع قصبے بیتا میں اسرائیلی آباد کاروں نے ایک کم عمر فلسطینی لڑکے کو بھی وحشیانہ طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی شہریوں اور بالخصوص کم عمر بچوں کے خلاف ہونے والے مظالم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور آباد کار قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کھلم کھلا تشدد کر رہے ہیں۔ ان پرتشدد واقعات کے ساتھ ساتھ، اسرائیلی فورسز کی جانب سے مغربی کنارے کے مختلف دیہات میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارنے اور تلاشی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ فوجیوں کی جانب سے گھروں میں توڑ پھوڑ، بلاجواز گرفتاریوں اور نقل و حرکت پر سخت پابندیوں نے عام شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ قابض فورسز اور آباد کاروں کی مشترکہ کارروائیاں ان کے بنیادی حقوق پر کھلا ڈاکہ ہیں۔ * بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ فلسطینی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس قسم کے جرائم اور بے لگام تشدد کو نہ روکا گیا تو خطے میں امن کی بحالی کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں گی اور صورتحال مزید قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔