LIVE
Loading Breaking News...

روس میں جاپانی صحافی امائی یوکی کی گرفتاری اور بڑھتی کشیدگی

News Image
روس کی فیڈرل سکیورٹی سروس نے سخالین کے علاقے میں جاپانی صحافی کو جاسوسی کے شبے میں گرفتار کر لیا ہے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔
ماسکو: روس کی فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے جاپانی صحافی امائی یوکی کو روس کے دور دراز علاقے سخالین سے گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس جاپانی صحافی پر روس کی دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے اور حساس نوعیت کی معلومات اکٹھی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کارروائی نے عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر پہلے ہی سیاسی اور عسکری محاذ پر تناؤ عروج پر ہے۔ روسی سکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ صحافی کی سرگرمیاں ملک کی سلامتی کے منافی تھیں اور ان کے پاس سے ایسے شواہد ملے ہیں جو جاسوسی کے زمرے میں آتے ہیں۔ دوسری جانب جاپانی حکومت اور میڈیا کی طرف سے اس گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ٹوکیو میں وزارت خارجہ کے حکام اس معاملے کی سنگینی کا جائزہ لے رہے ہیں اور جاپانی سفارت خانے کے ذریعے اپنے شہری تک قونصلر رسائی حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ اس کی خیریت دریافت کی جا سکے اور قانونی مدد فراہم کی جا سکے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا ہے جب یوکرین کے تنازعے کے بعد سے روس اور جاپان کے دوطرفہ تعلقات تاریخی پستی کا شکار ہیں۔ جاپان نے امریکہ اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ مل کر روس کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں، جس کے جواب میں ماسکو بھی ٹوکیو کے خلاف سخت گیر موقف اپنائے ہوئے ہے۔ سخالین کا خطرہ جغرافیائی لحاظ سے بھی انتہائی حساس ہے کیونکہ یہ روس کے مشرق بعید میں جاپان کے قریب واقع ہے اور یہاں روسی عسکری تنصیبات موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صحافی کی اس گرفتاری سے دونوں ممالک کے مابین پہلے سے کشیدہ سفارتی تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور خطے میں سیاسی محاذ آرائی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔