LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب پر حوثی حملے اور زائرین کی مشکلات

News Image
سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو کشیدہ کر دیا ہے۔ ان حملوں کی زد میں آنے والے زائرین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے اہم حصوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تازہ ترین حملوں میں دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ دو روز کے اندر ریاض ایئرپورٹ پر یہ دوسرا حملہ تھا جس سے نہ صرف فضائی نظام متاثر ہوا بلکہ عمرہ زائرین اور دیگر مسافر بھی شدید پریشانی کا شکار ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق میزائل اور ڈرون حملوں کی وجہ سے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں اور پروازوں کے معمولات میں بھی تعطل پیدا ہوا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں کی لہر نے خلیجی خطے میں امن کی کوششوں کو ایک بار پھر زک پہنچائی ہے۔ حوثی باغیوں کے اس اقدام کی خطے کے کئی ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے شدید مذمت کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششوں کے ذریعے تنازعات کے حل پر زور دیا جا رہا تھا۔ سعودی عرب کی فضائی دفاعی فورسز نے بیشتر حملوں کو کامیابی سے ناکام بنایا تاہم ملبے گرنے اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے عام شہریوں اور زائرین میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دوسری جانب، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کے رابطے بھی جاری ہیں۔ اسلامی فوجی اتحاد کے سیکرٹری جنرل نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات میں خطے کی موجودہ سلامتی کی صورتحال اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور معصوم زائرین کی حفاظت کو مقدم رکھا جا سکے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ زائرین کو سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد فراہم کی جا سکے۔ عالمی برادری نے بھی حوثی باغیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر جارحانہ کارروائیاں بند کریں تاکہ خطے میں مزید انسانی بحران جنم نہ لے سکے اور پرامن ماحول بحال ہو سکے۔