Politics
بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد - اسلام آباد ہائی کورٹ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں بشریٰ بی بی کی سات سالہ سزا معطل کرنے کی درخواست خارج کر دی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ کی سزا معطل ہونے کی امیدیں فی الحال دم توڑ گئی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں توشہ خانہ اور دیگر معاملات کی طرح ایک اور اہم فیصلے میں بشریٰ بی بی کی سات سالہ قید کی سزا کو معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔ عدالتِ عالیہ کے اس فیصلے کے بعد بشریٰ بی بی کو فی الحال کوئی ریلیف نہیں مل سکا ہے اور وہ اپنی سزا کے خلاف اپیل پر حتمی فیصلے تک جیل میں ہی رہیں گی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد یہ فیصلہ سنایا جس میں درخواست کو ناقابلِ پذیرائی قرار دیا گیا۔
واضح رہے کہ اس مقدمے میں 190 ملین پاؤنڈ کے اسکینڈل سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے جن کے تحت ٹرائل کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزائیں سنائی تھیں۔ بشریٰ بی بی کے وکلاء کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کی موکلہ کا اس مبینہ مالی بے ضابطگی سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں قانونی سقم موجود ہیں، اس لیے سزا کو مرکزی اپیل کا فیصلہ آنے تک معطل کیا جائے۔
تاہم، عدالت نے پراسیکیوشن کے دلائل کو وزنی قرار دیتے ہوئے سزا معطل کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ اس عدالتی فیصلے کو سیاسی حلقوں اور تحریک انصاف کے لیے ایک اور بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف قانون کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے جبکہ قانونی ماہرین کے مطابق مرکزی اپیل پر اب باقاعدہ سماعتیں ہوں گی جن میں کیس کے اصل حقائق کا فیصلہ ہوگا۔