World
سلامتی کونسل کا اجلاس: لیبیا کی صورتحال اور سیاسی پیش رفت
اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں لیبیا میں جاری سیاسی پیش رفت کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، یواین کے ایلچی کا کہنا ہے کہ ملک میں اب بھی نمایاں چیلنجز اور رکاوٹیں باقی ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اہم اور تازہ ترین اجلاس میں لیبیا کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کو خصوصی طور پر زیر بحث لایا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران لیبیا میں ہونے والی پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیا گیا جبکہ اسے ملک کے طویل مدتی استحکام کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ عالمی برادری لیبیا میں امن اور جمہوریت کے قیام کے لیے مسلسل کوشاں ہے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لیبیا میں سیاسی عمل کے دوران جو پیش رفت ہوئی ہے وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے فریقین کے مابین بات چیت کے عمل کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ اس رفتار کو برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ایلچی کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے لیبیا کے اندرونی تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، بریفنگ کے دوران اس امر پر بھی واضح روشنی ڈالی گئی کہ لیبیا کے اندر تاحال کئی نمایاں چیلنجز اور رکاوٹیں موجود ہیں۔ سکیورٹی خدامات کی غیر یقینی صورتحال، سیاسی تقسیم اور فریقین کے درمیان پائیدار مفاہمت کا فقدان ایسے امور ہیں جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عالمی اداروں کا ماننا ہے کہ جب تک ان بنیادی چیلنجز کا موثر حل نہیں نکالا جاتا، تب تک مکمل اور دیرپا امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
اجلاس کے اختتام پر سلامتی کونسل کے ارکان نے تمام لیبیائی فریقین پر زور دیا کہ وہ مل بیٹھ کر ملکی مفاد کو مقدم رکھیں اور ایک جامع سیاسی حل کی طرف بڑھیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے لیبیا کے عوام کے ساتھ مکمل تعاون کا عزم ظاہر کر چکے ہیں تاکہ ملک کو اس بحران سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔