LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال اور پانی کا بحران

News Image
مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کے ساتھ اب پانی کے شدید بحران کے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔ ماہرین اس شعبے میں ماحول دوست اور پائیدار ترقی کے لیے نئے لائحہ عمل پر زور دے رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی صنعت میں تیز رفتار ترقی جہاں ایک طرف دنیا کو نئی سمت عطا کر رہی ہے، وہیں اس کے ماحول پر مرتب ہونے والے منفی اثرات بھی شدت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اور ڈیٹا سینٹرز کی توانائی کی لامحدود طلب اب پانی کی فراہمی کے نظام پر بھی شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کروڑوں گیلن پانی کا استعمال کیا جاتا ہے، جس سے مقامی آبی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور ماحولیاتی ماہرین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گلوبل اے آئی بم کے بعد اب توجہ زیادہ سمارٹ اور ماحول دوست ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر مرکوز کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی فورمز پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی کے دوران پائیداری کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیٹا سینٹرز کے لیے پانی اور بجلی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر جدید ٹیکنالوجی اور بہتر اسکور کارڈز کا استعمال نہ کیا گیا، تو دنیا کے کئی خطوں میں پانی کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ مختلف ممالک میں یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے بھی اس مسئلے پر سیمینارز اور کانفرنسز کا انعقاد کر رہے ہیں تاکہ اے آئی کے ماحولیاتی اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اب ایسے کولنگ سسٹمز اور متبادل ذرائع تلاش کرنے کی پابند ہونی چاہئیں جو ماحول دوست ہوں اور پانی کے ضیاع کو کم سے کم کریں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر بھی سخت پالیسیاں بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ڈیجیٹل ترقی اور قدرتی وسائل کے تحفظ میں توازن قائم رکھا جا سکے۔