Entertainment
راسل برینڈ جنسی ہراسانی مقدمہ: عدالت میں سماعت شروع
برطانوی اداکار اور کامیڈین راسل برینڈ کے خلاف جنسی جرائم اور عصمت دری کے مقدمے کی سماعت کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ استغاثہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزم نے اپنے اثر و رسوخ کا غلط استعمال کیا۔
برطانوی اداکار اور کامیڈین راسل برینڈ کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات کے تحت دائر کیے گئے مقدمے کی سماعت کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ عدالت میں جاری کارروائی کے دوران استغاثہ نے اپنے ابتدائی بیانات میں راسل برینڈ کو ایک 'جنسی شکاری' قرار دیا ہے، جن پر خواتین کو ہراساں کرنے اور اپنے اثر و رسوخ کا غلط استعمال کرنے کے الزامات ہیں۔ واضح رہے کہ مشہور شخصیت نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے تین شمار کی جانے والی عصمت دری، تین شمار جنسی حملوں اور ایک شمار بدتمیزی کے الزامات میں صحت جرم سے انکار کیا ہے۔
عدالت میں استغاثہ کے وکلا کا کہنا تھا کہ راسل برینڈ نے اپنے کیریئر کے عروج کے دوران مختلف مواقع پر متاثرہ خواتین کو نشانہ بنایا اور اپنی شہرت کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ استغاثہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزم کا رویہ انتہائی منظم اور جارحانہ تھا، اور انہوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے قانون اور اخلاقی حدود کو پامال کیا۔ قانونی ٹیم کا ماننا ہے کہ اس مقدمے میں پیش کیے جانے والے شواہد اور گواہوں کے بیانات سے تمام حقائق کھل کر سامنے آ جائیں گے، جس کے بعد عدالت انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔
دوسری جانب، راسل برینڈ کے دفاعی وکلا نے ان الزامات کو بے بنیاد اور ان کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی سازش قرار دیا ہے۔ دفاعی ٹیم کا اصرار ہے کہ ملزم نے کبھی کسی کے ساتھ مرضی کے خلاف کچھ نہیں کیا اور تمام الزامات جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔ مقدمے کی یہ سماعت آنے والے دنوں میں بھی جاری رہے گی، جس میں دونوں جانب سے مزید گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جانے اور اہم شواہد پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ اس ہائی پروفائل مقدمے پر ذرائع ابلاغ اور عوامی حلقوں کی گہری نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ یہ معاملہ شوبز انڈسٹری میں طاقت کے غلط استعمال اور اخلاقیات کے حوالے سے ایک بڑی بحث چھیڑ چکا ہے۔