LIVE
Loading Breaking News...

اوپن اے آئی کے ساوٗدی انجینئر عبدالرحمن الفوزان کی گرفتاری کی تفصیلات

News Image
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کے ایک ساوٗدی انجینئر عبدالرحمن الفوزان کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس معاملے میں ٹوائلٹ پیپر اور خفیہ ریکارڈرز کی موجودگی نے اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا کی معروف ترین کمپنی اوپن اے آئی سے وابستہ ایک ساوٗدی انجینئر عبدالرحمن الفوزان کی وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف بی آئی کے ہاتھوں گرفتاری نے ٹیکنالوجی کے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، عبدالرحمن الفوزان اس مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنی میں ایک سال سے زائد عرصے تک خدمات انجام دے رہے تھے، تاہم ان کی حالیہ گرفتاری نے سکیورٹی اور کارپوریٹ جاسوسی کے حوالے سے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ اس گرفتاری کے دوران سامنے آنے والے شواہد میں ٹوائلٹ پیپر اور خفیہ ریکارڈرز کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے، جس سے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔ تفتیشی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس تمام کارروائی کے پیچھے کسی قسم کی خفیہ معلومات کی چوری یا کمپنی کے اندرونی رازوں تک رسائی کا کوئی معاملہ تو نہیں تھا۔ اوپن اے آئی جو کہ عالمی سطح پر اے آئی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں سرفہرست ہے، اس واقعے کے بعد اپنے ملازمین کی سکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے سخت اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ تاحال کمپنی یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس بابت مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں، لیکن ابتدائی رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ کافی سنگین نوعیت کا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حساس اداروں میں کام کرنے والے افراد کی سکیورٹی کلیرنس اور ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ ساوٗدی انجینئر کی گرفتاری کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی اس خبر کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اس کی ہر پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔