World
فلسطینی آرٹ نمائش غزہ اور مغربی کنارے میں بیک وقت منعقد
فلسطینی فنکاروں نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے درمیان اسرائیلی پابندیوں کو چیلنج کرتے ہوئے بیک وقت ایک آرٹ نمائش کا انعقاد کیا ہے۔ یہ اقدام دونوں خطوں کے درمیان ثقافتی فاصلوں کو کم کرنے اور روابط بحال کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
فلسطینی فنکاروں اور تخلیق کاروں نے جغرافیائی اور سیاسی تقسیم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آرٹ کے ذریعے ایک منفرد پل تعمیر کیا ہے۔ بیت لحم اور غزہ کی پٹی میں بیک وقت افتتاح ہونے والی ایک نئی فلسطینی نمائش نے اسرائیلی پابندیوں کو بھرپور انداز میں چیلنج کیا ہے۔ یہ نمائش دونوں فلسطینی علاقوں کے باسیوں کو ایک ہی وقت میں ایک ہی تخلیقی تجربے سے گزرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، جو طویل عرصے سے سخت سفری اور مواصلاتی پابندیوں کا شکار ہیں۔
اس نمائش کا مقصد نہ صرف فلسطینی فنون لطیفہ کو فروغ دینا ہے بلکہ غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کو کم کرنا بھی ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ آرٹ ایک ایسی زبان ہے جو کسی بھی دیوار یا سیکیورٹی بیریر کی محتاج نہیں ہوتی۔ اس نمائش کے ذریعے فلسطینی عوام اپنے جذبات، مزاحمت کی کہانیوں اور روزمرہ کے چیلنجز کو کینوس اور مجسموں کے توسط سے دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا सके کہ روح کی آزادی کو قید نہیں کیا جا سکتا۔
نمائش کے افتتاحی تقریب کے دوران دونوں مقامات پر موجود حاضرین نے اس اقدام کو سراہا اور اسے قومی یکجہتی کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔ شرکاء کا ماننا ہے کہ ایسے ثقافتی پروگرام نوجوان نسل کو یکجا رکھنے اور ان کی شناخت کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مشکل ترین حالات کے باوجود فلسطینی عوام کا یہ تخلیقی سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے حقوق اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔