Technology
یوکرین کا اسپیس ایکس اور اسٹار لنک پر اہم الزام
یوکرین کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپیس ایکس نے روسی ڈرونز کو بلاک کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔ یہ الزام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کیفے کو مسلسل دوسرے روز بھی بیلسٹک میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
یوکرین کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے خلاف ایک سنگین الزام سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کمپنی نے ملک میں موجود اسٹار لنک ٹرمینلز کی کارکردگی کو محدود کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کی وجہ سے روسی ڈرونز کی نقل و حرکت کو روکنے اور ان کا سراغ لگانے کی دفاعی صلاحیت براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔ یوکرینی دفاعی ذرائع کے مطابق یہ صورتحال اس وقت اور بھی زیادہ تشویشناک ہو گئی ہے جب ملک کو مسلسل دوسرے روز بھی شدید بیلسٹک میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسٹار لنک ٹرمینلز یوکرین کے لیے مواصلاتی رابطوں اور فوجی نوعیت کی کارروائیوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے ہی یوکرین کی افواج انٹرنیٹ اور مواصلات کے لیے اسٹار لنک پر بہت زیادہ انحصار کرتی چلی آ رہی ہیں۔ تاہم، حالیہ پابندیوں یا سست روی کے دعووں نے دونوں فریقین کے درمیان تعلقات میں ایک بار پھر تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ یوکرینی حکام کا ماننا ہے کہ جنگی حالات میں اس قسم کی تکنیکی رکاوٹیں نہ صرف فرنٹ لائن پر موجود فوجیوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں بلکہ مجموعی دفاعی حکمت عملی کو بھی کمزور کرتی ہیں۔ دوسری جانب، اس معاملے پر اسپیس ایکس اور ایلون مسک کی طرف سے فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن ماضی میں بھی اس ٹیکنالوجی کے فوجی استعمال کے حوالے سے مباحثے ہوتے رہے ہیں۔
کیف شہر اور دیگر اہم علاقوں میں حالیہ بیلسٹک میزائل حملوں کے تناظر میں مواصلاتی نظام کا بلا تعطل کام کرنا انتہائی ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ یوکرین کی حکومت چاہتی ہے کہ تمام دفاعی اور مواصلاتی چینلز بغیر کسی بیرونی مداخلت کے فعال رہیں تاکہ فضائی حملوں کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔ بین الاقوامی مبصرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ جدید جنگی تنازعات میں نجی نوعیت کی خلائی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کا کردار روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور اس طرح کے تنازعات مستقبل کے جنگی ضابطوں پر گہرے اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔