LIVE
Loading Breaking News...

نیتنیاہو کا یوکرین کو آئرن ڈوم بھیجنے سے انکار، رپورٹ سامنے آگئی

News Image
اسرائیلی سفارت خانے کے مطابق سنہ 2023 میں وزیراعظم نیتنیاہو نے یہ فیصلہ خدشے کے تحت کیا تھا کہ دفاعی ٹیکنالوجی ایرانی ہاتھوں میں نہ چلی جائے۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دفاعی اور تکنیکی تعاون بڑھانے پر بات چیت جاری ہے۔
واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو نے سنہ 2023 میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی اس درخواست کو سختی سے مسترد کر دیا تھا جس میں انہوں نے یوکرین کو مشہورِ زمانہ 'آئرن ڈوم' فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ سفارت خانے نے اس فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ نیتنیاہو کو شدید خدشات لاحق تھے کہ کہیں یہ حساس دفاعی ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں پڑ کر بالآخر ایران تک نہ پہنچ جائے۔ ذرائع کے مطابق، جنگ زدہ ملک یوکرین کی جانب سے مسلسل مغربی ممالک سے جدید فضائی دفاعی نظام کے حصول کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ روسی فضائی حملوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے امریکی قانون سازوں نے بھی مختلف سطح پر کوششیں کیں، جن میں سینیٹر لنڈسے گراہم کی یہ تجویز بھی شامل تھی کہ اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت کچھ یونٹس یوکرین منتقل کیے جائیں۔ تاہم، تل ابب کی سلامتی سے متعلق ترجیحات اور خفیہ ٹیکنالوجی کے افشا ہونے کا خوف اس منتقلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوا۔ اسرائیلی قیادت کا یہ مؤقف رہا ہے کہ ان کا ملک اپنی دفاعی تنصیبات اور حساس عسکری رازوں کی حفاظت کے لیے انتہائی سخت پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے یوکرین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کی ہے اور طبی سامان بھیجا ہے، لیکن عسکری اور مہلک دفاعی ساز و سامان کی فراہمی کے معاملے پر وہ انتہائی محتاط روش اختیار کیے ہوئے ہے۔ دوسری جانب، واشنگٹن میں بھی اس معاملے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں جہاں اسرائیل کی سلامتی کے تحفظ اور یوکرین کی فوری دفاعی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں امریکی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے دفاعی پالیسی کے ایک بل میں ایک نئی شق منظور کی ہے، جس کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کے درمیان عسکری اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔ اس بل کے تحت دونوں ممالک کے مابین دفاعی نوعیت کے منصوبوں پر سرمایہ کاری اور اشتراکِ کار کو وسعت دی جائے گی، تاہم آئرن ڈوم جیسے انتہائی حساس نظام کی تیسرے فریق کو منتقلی کے حوالے سے اسرائیل کے تحفظات اب بھی بدستور برقرار ہیں۔