World
تہران میونسپلٹی ویلفیئر منصوبے تنقید کی زد میں
تہران کی نئی میونسپل ویلفیئر اسکیموں کو فنڈنگ کے ذرائع، شفافیت اور مہنگائی کے دعوؤں کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین اور حکام کی جانب سے ان منصوبوں کے قانونی دائرہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
تہران کی میونسپلٹی کی جانب سے حال ہی میں شروع کیے گئے فلاحی اور ویلفیئر منصوبے تنازع کا شکار ہو گئے ہیں اور ادارے پر اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ان منصوبوں کو لے کر شہر کے سیاسی اور انتظامی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے، جہاں ناقدین کی جانب سے فنڈنگ کے مبہم ذرائع اور شفافیت کے فقدان پر گہرے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ان فلاحی اسکیموں کے اعلان کے بعد سے ہی عوامی سطح پر مہنگائی اور مالیاتی وسائل کے درست استعمال سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ میونسپلٹی کو اپنے بنیادی فرائض پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے بجائے اس کے کہ ایسے منصوبے شروع کیے جائیں جو اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہوں یا جن کے مالیاتی اثرات کا شفاف جائزہ نہ لیا گیا ہو۔
دوسری جانب، میونسپل حکام نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ تمام اقداماتشہر کے مستحق شہریوں کی فلاح و بہبود اور ان کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام امور ضابطے کے مطابق چلائے جا رہے ہیں اور فنڈز کے حوالے سے مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا ابہام کی گنجائش نہ رہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر، ماہرین اور شہریوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مقامی حکومتوں اور بلدیاتی اداروں کو کسی بھی بڑے اقدام سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیے تاکہ اس طرح کے تنازعات سے بچا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید بحث متوقع ہے کیونکہ کونسل اور دیگر ادارے اس پالیسی کے طویل المدتی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔