LIVE
Loading Breaking News...

البانیا وزارت تعلیم میں آگ اور مظاہرین کی گرفتاریاں

News Image
البانیا میں جاری مظاہروں کے تیسرے روز وزارتِ تعلیم کی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔ پولیس کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے بعد مزید سولہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
البانیا میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ تیسرے روز میں داخل ہو گیا ہے، جس دوران دارالحکومت میں واقع وزارتِ تعلیم کی عمارت میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس ناخوشگوار واقعے نے ملک میں سیاسی و سماجی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں شدت آ گئی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، مظاہروں کے دوران ہونے والی پرتشدد جھڑپوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مزید کم از کم سولہ مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد پر سرکاری املاک پر حملے اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ گرفتاریوں کا یہ نیا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب اشتعال انگیز ہجوم نے وزارتِ تعلیم کی عمارت کے اطراف رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی۔حکام کا مزید کہنا ہے کہ وزارتِ تعلیم کی عمارت میں لگنے والی آگ پر فائر فائٹرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے قابو پا لیا، تاہم اس حادثے کے نتیجے میں عمارت کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔ وزیرِ تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے لیکن قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب اپوزیشن اور طلبا تنظیموں نے حکومت سے مطالبات فوری تسلیم کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ملک بھر میں جاری اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی مزید ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ بین الاقوامی میڈیا بھی البانیا کے اس بحران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مبصرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے فریقین کے ساتھ مذاکرات کا آغاز نہ کیا تو حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔