Politics
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ، پارلیمنٹ سے قرارداد منظور
قومی اسمبلی اور سینیٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی قراردادوں کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام پر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور اسے سیاسی انتقام قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کی توثیق سے متعلق قراردادیں بھਾਰی اکثریت سے منظور کر لی ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اس فیصلے کے بعد ملکی سیاسی فضا میں ایک بار پھر گرما گرمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور سیاسی مبصرین کی جانب سے اس پیشرفت کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ پارلیمانی کارروائی کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے مابین شدید لفظی تکرار بھی ہوئی۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور بالخصوص سیاسی رہنماؤں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ راجہ ناصر عباس اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں مذاکرات کا عمل محض ایک ڈھونگ تھا اور حکومت نے پہلے سے ہی گورنر راج نافذ کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ صوبائی خودمختاری پر حملہ اور منتخب حکومت کو سبوتاژ کرنے کی یہ کوششیں جمہوریت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوں گی۔
ادھر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ وفاق اور صوبے کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ تاریخی تناظر میں بھی صوبے کے سیاسی حالات ہمیشہ سے حساس رہے ہیں اور موجودہ بحران کے بعد وفاقی حکومت اور صوبائی اپوزیشن کے درمیان سیاسی محاذ آرائی میں مزید شدت آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزراء کا البتہ اصرار ہے کہ یہ قدم صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور آئینی تقاضوں کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔