Pakistan
پاکستان اور عمان کے درمیان قریبی سفارتی تعلقات کا اعادہ
عمان کے وزیر خارجہ نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔ دونوں ممالک نے حوثی ملیشیا کے حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔
عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر عمانی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کا کردار خطے میں کشیدگی کم کرنے اور باہمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بالخصوص حوثی ملیشیا کے حالیہ حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان اور عمان نے مشترکہ طور پر حوثی ملیشیا کے اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی ذرائع اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کرنا ہی واحد راستہ ہے۔ دونوں ممالک کا ماننا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ تجارتی راستوں اور سمندری حدود کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس دورے کا ایک اور اہم پہلو پاک-عمان جوائنٹ منسٹریل کمیشن کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کرنا تھا۔ وزیر خارجہ کے دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی روابط کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ پاکستان نے عمان کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی کو سراہتے ہوئے سرمایہ کاری اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں فریقین نے امید ظاہر کی کہ اس اعلیٰ سطح کے دورے سے دو طرفہ تعاون کے نئے در وا ہوں گے اور خطے میں امن کی مشترکہ کوششیں مزید بارآور ثابت ہوں گی۔
آخر میں، پاکستانی قیادت نے عمان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمان خلیجی خطے میں پاکستان کا ایک اہم اور قابل اعتماد شراکت دار ہے۔ یہ دورہ نہ صرف سفارتی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان قربتوں کا عکاس ہے بلکہ اس سے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں مختلف شعبہ جات میں تعاون کے معاہدوں پر بھی غور کیا گیا تاکہ دونوں برادر ممالک کے عوام کو معاشی فوائد پہنچائے جا سکیں۔