World
یمن کے حوثی باغی سعودی آرامکو پر حملے کے بعد مزید کارروائیوں کے لیے تیار
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو کے صدر دفتر پر حملے کے بعد مملکت کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر مزید حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کشیدگی یمن میں سعودی اتحادی فوج کے فضائی حملوں اور حوثیوں کی جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں مزید بڑھ گئی ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے اہم شہروں اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اپنی مہم کو مزید تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب حوثی میزائلوں نے سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے صدر دفتر اور اس کی عمارتوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ اس حملے نے خطے میں توانائی کی سپلائی اور سیکیورٹی سے متعلق شدید خدشات کو جنم دے دیا ہے، کیونکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اور سیکیورٹی صورتحال اس طرح کے حملوں سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ دوسری جانب، سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی افواج کی جانب سے بھی یمن کے دارالحکومت اور دیگر علاقوں میں ایندھن کے ڈپوز اور فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے جا رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع میں شدت پیدا ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حوثی گروپ کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں واضح کیا گیا ہے کہ جب تک یمن پر بیرونی جارحیت بند نہیں ہوتی، اس وقت تک سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی اہم تنصیبات کو ان کے میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔ خطے کے مبصرین کا ماننا ہے کہ اس تازہ کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کے ایک نئے محاذ پر جنگ کے خطرات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث عالمی طاقتیں اور سفارتی حلقے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ امریکی اور دیگر عالمی رہنما مشرق وسطیٰ کے اس بگڑتے ہوئے سیکیورٹی منظر نامے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے اور توانائی کے عالمی راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔