LIVE
Loading Breaking News...

ایلون مسک کا بیان: یوکرین میں اسٹار لنک کی رفتار کا دارومدار امریکہ پر ہے

News Image
ایلون مسک کا کہنا ہے کہ یوکرین میں اسٹار لنک کی رسائی اور رفتار پر عائد کردہ کسی بھی قسم کی پابندی کا تعلق ان کی کمپنی سے نہیں بلکہ امریکی حکومت کے فیصلوں سے ہے۔ دوسری جانب یوکرین کا مؤقف ہے کہ رسائی بہتر ہونے کے باوجود اب بھی رفتار میں کمی کی وجہ سے ان کے جنگی مشنز متاثر ہو رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف شخصیت اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے واضح کیا ہے کہ یوکرین میں اسٹار لنک انٹرنیٹ سروس کی رسائی اور رفتار پر عائد کی جانے والی کوئی بھی پابندی ان کی کمپنی کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے، بلکہ اس کا انحصار مکمل طور پر امریکی حکومت کے فیصلوں پر ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کی جانب سے مسلسل یہ شکایات کی جا رہی ہیں کہ ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار محدود ہونے کی وجہ سے ان کے دفاعی اور جنگی مشنز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ میدانِ جنگ میں رابطے بحال رکھنے کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ کی اشد ضرورت ہے، لیکن اسپیڈ لمٹس ان کی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہیں۔ دوسری جانب، اسپیس ایکس کے حکام اور ایلون مسک بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ان کا نیٹ ورک یوکرین میں تنازع کے دوران مواصلاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، تاہم اس کے استعمال سے متعلق بعض تزویراتی فیصلے اور ضابطے واشنگٹن کی ہدایات کے تحت طے پاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، جنگی حالات میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن کا استعمال ایک انتہائی حساس معاملہ بن چکا ہے جہاں سکیورٹی خدشات اور آپریشنل ضروریات کے درمیان توازن قائم رکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ امریکی حکام بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال طے شدہ پالیسیوں کے عین مطابق ہو۔ یوکرین میں جنگ کے آغاز سے ہی اسٹار لنک ٹرمینلز نے یوکرینی فوج اور عام شہریوں کو رابطے میں رکھنے کے لیے ایک اہم لائف لائن کا کردار ادا کیا ہے۔ زمینی مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے بعد سیٹلائٹ انٹرنیٹ ہی وہ واحد ذریعہ رہ گیا تھا جس کے ذریعے فوج اپنے دستوں کے ساتھ رابطے میں رہ سکی۔ تاہم، حالیہ دنوں میں پیش آنے والی ان تکنیکی رکاوٹوں اور اسپیڈ کی پابندیوں نے دونوں فریقین کے درمیان نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اور اسپیس ایکس مل کر اس مسئلے کا کوئی ایسا متبادل حل نکالتے ہیں جس سے یوکرین کے دفاعی مشنز متاثر نہ ہوں اور بین الاقوامی ضابطے بھی برقرار رہیں۔