Technology
آسٹریلیا کا نیا ٹیک قانون: الگورتھم بند کرنے کی نئی قانون سازی
آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں جمعرات کو ایک نیا قانون پیش کیا جا رہا ہے جس کے تحت بڑی ٹیک کمپنیوں کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ صارفین کو ریکمینڈڈ مواد دکھانے والے الگورتھم کو بند کرنے کا اختیار دیں۔ اس قانون کا مقصد آن لائن پلیٹ فارمز پر صارفین کے کنٹرول کو بڑھانا اور ڈیجیٹل سادگی کو فروغ دینا ہے۔
آسٹریلیا کی حکومت نے ڈیجیٹل دنیا میں ایک بڑا اور انقلابی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت جمعرات کے روز پارلیمنٹ میں ایک نئی قانون سازی پیش کی جا رہی ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر صارفین کو ایسا اختیار فراہم کریں جس کی مدد سے وہ اپنی مرضی سے اس الگورتھم کو بند یا غیر فعال کر سکیں جو انہیں مسلسل ریکمینڈڈ مواد یا ویڈیوز دکھاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
موجودہ دور میں فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے بڑے پلیٹ فارمز اپنے طاقتور الگورتھمز کے ذریعے صارفین کو ایسی ویڈیوز اور پوسٹس دکھاتے ہیں جو ان کی توجہ طویل عرصے تک اسکرین پر مرکوز رکھ سکیں۔ اس رجحان کی وجہ سے جہاں ایک طرف صارفین کو اپنی پسند کا مواد آسانی سے مل جاتا ہے، وہیں دوسری طرف اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں جن میں ذہنی دباؤ اور وقت کا ضیاع سرفہرست ہیں۔ آسٹریلوی حکومت کی طرف سے لائے جانے والے اس نئے بل کے منظور ہونے کے بعد، صارفین کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ خودکار سفارشات کے بجائے صرف وہی مواد دیکھیں جو وہ واقعی دیکھنا چاہتے ہیں۔
ٹیکنالوجی انڈسٹری اور ساجی حلقوں میں اس قانون پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور عام عوام اس فیصلے کو سراہ رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بڑی ٹیک کمپنیوں نے اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ٹیک کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ الگورتھم صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے اور متعلقہ مواد فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس قانون سازی سے ان کے کاروباری ماڈلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ اشتہارات کی ترسیل کا سارا نظام اسی ہدف پر مبنی مواد پر انحصار کرتا ہے۔
پارلیمنٹ میں جمعرات کو پیش کیے جانے والے اس بل پر گرما گرم بحث کی توقع کی جا رہی ہے۔ اگر یہ قانون کامیابی کے ساتھ منظور ہو جاتا ہے تو آسٹریلیا دنیا بھر کے ان اولین ممالک میں شامل ہو جائے گا جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس نوعیت کی سخت اور صارف دوست پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ دنیا بھر کے دیگر ممالک کے ریگولیٹرز بھی اس قانون سازی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں وہ بھی اپنے یہاں اس قسم کے اقدامات اٹھا سکیں۔