LIVE
Loading Breaking News...

حوثی حملے اور مکہ کے زائرین کے سفری مسائل

News Image
یمن کی حوثی تحریک کے حالیہ حملوں نے سعودی عرب جانے والے عتمرہ زائرین کے سفر کو شدید متاثر کیا ہے۔ زائرین کو مقدس مقامات تک رسائی میں سفری پابندیوں اور روٹس کی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یمن کی جانب سے جاری کشیدگی اور حوثی گروپ کے حالیہ حملوں نے سعودی عرب کے فضائی اور زمینی سفر کو متاثر کیا ہے، جس کا براہ راست اثر دنیا بھر سے مکہ مکرمہ آنے والے عمرہ زائرین کی سفری تیاریوں پر پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حفاظتی خدشات اور فضائی حدود کی مانیٹرنگ کے باعث کئی پروازوں کے شیڈول میں ردوبدل کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے زائرین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سعودی حکام زائرین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں، تاہم اس خطے میں جاری کشیدگی نے نقل و حرکت کے نظام کو چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ بہت سے زائرین کے شیڈول التوا کا شکار ہو چکے ہیں یا انہیں متبادل روٹس کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب، دنیا بھر میں موجود مسلم کمیونٹی اور ٹریول ایجنسیوں نے زائرین کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر پر روانہ ہونے سے پہلے اپنی پروازوں کی تصدیق ضرور کریں۔ اس صورتحال نے ان ہزاروں مسلمانوں کے دلوں میں تشویش پیدا کر دی ہے جو سال کے اس موقع پر فریضہ عمرہ ادا کرنے کے لیے بیت اللہ حاضری کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ زائرین کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہے اور تمام بین الاقوامی قوانین کے تحت فضائی حدود اور اہم تنصیبات کی حفاظت کو فول پروف بنایا جا رہا ہے۔ حوثی حملوں کا یہ سلسلہ خطے میں طویل عرصے سے جاری سیاسی اور عسکری محاذ آرائی کا حصہ ہے، جو اب مذہبی فریضہ ادا کرنے والے عام شہریوں کے روزمرہ معمولات اور سفری منصوبوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ سفارتی سطح پر اس مسئلے کے حل اور خطے میں امن قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ زائرین بلا کسی خوف و خطر اپنے مذہبی فرائض انجام دے سکیں۔ دریں اثنا، زائرین اور ان کے اہل خانہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور صرف متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ مستند اطلاعات پر بھروسہ کریں۔