World
روسی حملہ کیف پر، انٹیلی جنس کی مبینہ غفلت سامنے آگئی
روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر ایک بار پھر شدید حملہ کیا گیا ہے۔ یہ حملہ مبینہ طور پر انٹیلی جنس معلومات میں کمی اور غفلت کے بعد سامنے آیا ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف پر ایک مرتبہ پھر شدید روسی فضائی اور میزائل حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں شہر کے مختلف حصوں میں نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق، فضائی دفاعی نظام نے متعدد حملوں کو ناکام بنانے کی کوشش کی تاہم کچھ مقامات پر دھماکوں کی آوازیں واضح طور پر سنی گئیں۔ اس تازہ ترین حملے نے سکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ حملہ بروقت انٹیلی جنس معلومات نہ ملنے اور بروقت کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے ہوا۔ انٹیلی جنس کے حلقوں میں اس بات پر بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا بروقت پیشگوئی نہ ہونے کی وجہ سے جانی و مالی نقصان میں اضافہ ہوا یا نہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق، حملے کے فوری بعد ایمرجنسی سروسز اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔ یوکرین کی قیادت نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تعاون فراہم کرے تاکہ اس طرح کے ناگہانی نقصانات سے بچا جا سکے۔ جنگ کے اس طویل تسلسل نے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن کو خطرے میں ڈال رکھا ہے، اور کیف پر ہونے والے یہ حملے اس بات کا غماز ہیں کہ تنازعہ تاحال کسی بھی فریق کے حق میں ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں جانب سے حملوں کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔