LIVE
Loading Breaking News...

ہسپانوی این جی او کا بحیرہ روم میں ریسکیو آپریشنز معطل کرنے کا اعلان

News Image
ہسپانوی تنظیم نے دنیا کے خطرناک ترین ہجرت کے راستوں میں سے ایک پر سرچ اینڈ ریسکیو کا کام بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ این جی او کا کہنا ہے کہ ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات اب ان کے وسائل سے باہر ہو چکے ہیں۔
میڈرڈ: ایندھن کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں اور مالیاتی دباؤ کے پیش نظر ایک ہسپانوی فلاحی ادارے نے بحیرہ روم میں تارکین وطن کے لیے اپنی سرچ اینڈ ریسکیو یعنی تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے دنیا کے ایک انتہائی خطرناک سمندری ہجرت کے راستے پر انسانی امداد کا دائرہ کار مزید محدود ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ این جی او کا کہنا ہے کہ روز بروز مہنگا ہوتا ہوا ایندھن اور امدادی جہازوں کو چلانے کے اخراجات ان کی استطاعت سے باہر ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔ بحیرہ روم کا یہ خطہ پچھلے کئی سالوں سے افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے یورپ جانے والے تارکین وطن کے لیے مرکزی راستہ رہا ہے، جہاں سمندری سفر کے دوران اکثر حادثات رونما ہوتے ہیں۔ ان خطرناک راستوں پر انسانی جانوں کو بچانے کے لیے مختلف بین الاقوامی اور مقامی این جی اوز اپنے وسائل کے مطابق کشتیاں اور جہاز تعینات کرتی ہیں تاکہ ڈوبنے والے افراد کی بروقت مدد کی جا سکے۔ ہسپانوی تنظیم کا یہ اقدام ان تارکین وطن کے لیے ایک بڑا دھکا ہے جو سمندر کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور انہیں فوری طبی و امدادی مدد کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ فلاحی تنظیم کے ذمہ داران نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بحران کا فوری نوٹس لیں اور بحیرہ روم میں انسانی جانوں کو بچانے کے اس مشن کو جاری رکھنے کے لیے مالی امداد فراہم کریں۔ تنظیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جب تک ایندھن کی قیمتوں میں استحکام نہیں آتا اور خاطر خواہ فنڈز جمع نہیں ہو جاتے، تب تک بحری جہازوں کو سمندر میں اتارنا ناممکن ہے۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر بحیرہ روم میں انسانی بحران اور تارکین وطن کی سلامتی سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دے دیا ہے۔