World
جمہوریہ کانگو: سابق صدر جوزف کابیلا کا ایم 23 باغیوں سے اتحاد
جمہوریہ کانگو کے سابق صدر جوزف کابیلا کی جانب سے ایم 23 باغیوں کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت سے افریقی ملک کے مشرقی حصوں میں سکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقے میں جاری طویل المدتی تنازع نے ایک نیا اور خطرناک موڑ اس وقت اختیار کر لیا جب ملک کے سابق صدر جوزف کابیلا نے باضابطہ طور پر ایم 23 (M23) کے باغی جنگجوؤں کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس غیر متوقع سیاسی اور عسکری پیش رفت سے وسطی افریقہ کے اس اہم ملک میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے اور بین الاقوامی سطح پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس اتحاد کے نتیجے میں حکومت اور باغی گروپوں کے درمیان طاقت کا توازن بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق جوزف کابیلا اور ایم 23 باغیوں کے درمیان یہ گٹھ جوڑ ملک کے مشرقی حصوں میں حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے اور سیاسی اثر و رسوخ بحال کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ ایم 23 ماضی میں بھی کانگو کے سکیورٹی دستوں کے خلاف کئی خونریز جھڑپوں میں ملوث رہا ہے اور علاقے کے وسیع و عریض معدنی وسائل سے مالامال حصوں پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ سابق صدر کی شمولیت سے اس عسکری گروہ کو نہ صرف سیاسی جواز ملنے کا خطرہ ہے بلکہ عسکری حکمت عملی کے لحاظ سے بھی انہیں تقویت حاصل ہو سکتی ہے۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے اس پیش رفت پر تند و تلخ ردعمل سامنے آیا ہے اور اسے ریاست کے خلاف غدارانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز کو ملک کے مشرقی اضلاع میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے حملے یا بغاوت کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔ دوسری جانب، خطے میں امن کے لیے کوشاں بین الاقوامی اداروں اور پڑوسی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ اس نئے اتحاد سے انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے اور لاکھوں معصوم شہری خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ اور افریقی یونین نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی اپیل کی ہے۔ تاہم، زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ واضح نظر آتا ہے کہ جمہوریہ کانگو آنے والے دنوں میں ایک نئے اور شدید اندرونی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں سابق صدر کے اس اقدام نے امن کی تمام امیدوں کو دھندلا دیا ہے۔