LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا وینزویلا کے قانون ساز خورخے رودریگز پر سے پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ

News Image
امریکہ نے دو طرفہ سفارت کاری اور تیل کے کنٹرول کے تناظر میں وینزویلا کے سرفہرست قانون ساز خورخے رودریگز کو پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ اس تازہ اقدام کو واشنگٹن کی جانب سے وینزویلا کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ کی حکومت نے وینزویلا کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور دوطرفہ سفارت کاری کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وینزویلا کے اعلیٰ ترین قانون ساز خورخے رودریگز کو پابندیوں کی فہرست سے ہٹا دیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے ادارے 'آفاک' (OFAC) نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رودریگز کا نام اب پابندیوں کے حامل افراد کی فہرست میں شامل نہیں رہا ہے۔ اس فیصلے کے پس منظر میں تیل کے کنٹرول اور سیاسی مذاکرات کو اہم محرکات قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، واشنگٹن کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ قدم وینزویلا کے ساتھ منجمد تعلقات میں برف پگھلانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے اور سیاسی اصلاحات کے حوالے سے پس پردہ رابطے جاری رہے ہیں۔ خورخے رودریگز وینزویلا کے ایک انتہائی با اثر سیاسی رہنما اور قانون ساز مانے جاتے ہیں، جن پر ماضی میں امریکہ کی جانب سے سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ اب ان کا نام خارج کیے جانے سے توقع کی جا رہی ہے کہ وینزویلا کی حکومت اور امریکی انتظامیہ کے مابین آئندہ کے لائحہ عمل پر مزید تعمیری بات چیت کا راستہ ہموار ہوگا۔ امریکہ کا یہ اقدام عالمی منڈی میں تیل کی رسد کو مستحکم کرنے اور لاطینی امریکہ میں اپنے سفارتی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی کا بھی عکاس ہے۔ اگرچہ اس فیصلے پر سیاسی حلقوں کی طرف سے مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے، تاہم اسے دو طرفہ کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔