LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں سالی رونی کی کتابوں پر پابندی اور فلسطین ایکشن کا تنازع

News Image
معروف مصنفہ سالی رونی کی کتابیں فلسطین ایکشن کی حمایت کرنے کی پاداش میں برطانیہ سے واپس لے لی گئی ہیں۔ اس اقدام پر ادبی حلقوں میں شدید ردعمل اور بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔
معروف اور ایوارڈ یافتہ آئرش مصنفہ سالی رونی کی کتابوں کو برطانیہ میں فروخت اور تقسیم سے ہٹائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ یہ فیصلہ مصنفہ کی جانب سے فلسطین ایکشن کی حمایت کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے ادبی اور سیاسی دونوں حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ سالی رونی اپنے منفرد اور مقبول رومانوی ناولز کے لیے عالمی سطح پر جانی جاتی ہیں، جنہیں قارئین کی طرف سے ہمیشہ پذیرائی ملی ہے۔ فلسطین ایکشن ایک ایسا گروپ ہے جو اسرائیل کی عسکری فراہمی اور کارروائیوں کے خلاف برطانیہ میں احتجاج اور احتجاجی مہمات چلاتا ہے۔ سالی رونی نے ماضی میں بھی فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے اور بائیکات تحریک کی حمایت کی ہے۔ ان کے حالیہ مؤقف کے بعد برطانوی مارکیٹ میں ان کی کتب کی دستیابی پر اثر پڑا ہے، جسے مبصرین اظہارِ رائے کی آزادی پر ایک بڑا سوالیہ نشان قرار دے رہے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد جہاں دنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنان اور مصنفہ کے مداحوں میں تشویش پائی جاتی ہے، وہیں ادبی تنظیموں کی جانب سے بھی اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ مصنفین کو ان کے سیاسی مؤقف کی وجہ سے سنسرشپ یا پابندی کا نشانہ بنانا درست نہیں ہے، جبکہ اس کے برعکس حامی فریقین کے اپنے دلائل ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس تنازع کے مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ سالی رونی کی عالمی سطح پر پذیرائی اور ان کے لاکھوں مداح اس فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر سراپا احتجاج ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ کس طرح بین الاقوامی سیاست اور ادبی دنیا اب ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور کسی بھی عالمی مسئلے پر مصنفین کی رائے ان کے کیریئر پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔