Politics
محمود خان اچکزئی کا سندھ میں گورنر راج لگنے کا انتباہ
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے بعد اب سندھ میں بھی گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صوبوں کو ان کے آئینی حقوق اور وسائل کی فراہمی یقینی بنائے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر ملکی سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خیبر پختونخوا کے بعد ملک کے دوسرے صوبے سندھ میں بھی پانی، معدنیات اور ندی نالوں کے معاملات پر گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز کو چاہیے کہ وہ تمام اکائیوں اور صوبوں کو ان کے جائز حقوق اور وسائل منتقل کرے تاکہ ملک میں کسی قسم کا انارکی کا ماحول پیدا نہ ہو۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کرنے والی قرارداد پر بحث کرتے ہوئے حکومتی اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے اپنی عوام کی مدد سے اپنے صوبے کو محفوظ بنایا۔ انہوں نے صوبے کے موجودہ حالات کا موازنہ ماضی کے واقعات سے بھی کیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو انتخابات سے قبل انتخابی نشان سے محروم کرنے کے فیصلے پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ حکومت کی جانب سے پنڈال میں غلط فیصلوں کے ذریعے عوام کے بنیادی حقوق کو سلب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ چوبیس کروڑ پاکستانی عوام کو ان کے سیاسی حقوق کی پاداش میں سزا دینا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جب آپ عوام سے ووٹ اور خود ارادیت کا حق چھینیں گے تو تمام صوبے آپ کے خلاف متحد ہو جائیں گے۔
حکومتی پالیسیوں اور ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ملکی وسائل کی لوٹ مار بند کی جائے اور ملک کو آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے ذریعے چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کا فروغ ہی تمام بحرانوں کا واحد حل ہے اور ہمیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔ انہوں نے پاکستان کے پڑوسی ممالک کے ساتھ خراب تعلقات اور خارجہ امور پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لینے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاست اپنے ہی عوام کے خلاف صف آرا ہو جائے تو عوام کو مجبوراً دوسرے راستے تلاش کرنا پڑتے ہیں۔
بانی پاکستان تحریک انصاف کی قید اور ان کی ملاقاتوں پر پابندی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین کا کون سا آرٹیکل کسی مقبول ترین رہنما کو اس کے اہل خانہ اور ساتھیوں سے ملنے سے روکتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے تو وہ صرف ان کی صحت کا حال جاننے اور معاملات کو سلجھانے کی کوشش کریں گے۔ اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج کا نفاذ ایک غلط فیصلہ تھا جسے فی الفور واپس لیا جانا چاہیے۔