LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ، عمران خان کی مشکلات میں اضافہ

News Image
پاکستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت معطل کر کے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اس اقدام کی توثیق کر دی ہے جس سے قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
قید میں موجود سابق وزیر اعظم عمران خان کی مشکلات میں اس وقت مزید شدید اضافہ ہو گیا جب پاکستان میں وفاقی حکومت نے ان کی جماعت کی زیر اقتدار صوبائی حکومت کو معطل کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس اہم فیصلے کے بعد ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک نیا اور شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، جس پر سیاسی حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ تازہ ترین پیشرفت کے مطابق، قومی اسمبلی اور سینیٹ نے الگ الگ قراردادیں منظور کر کے مرکز کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی باضابطہ توثیق کر دی ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی جانب سے اس توثیق کے بعد صوبائی حکومت کی معطلی اور گورنر راج کے نفاذ کے عمل کو قانونی جواز مل گیا ہے، تاہم اپوزیشن اور متاثرہ جماعت کی طرف سے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مختلف سیاسی رہنماؤں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم موجودہ سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے رہنما راجہ ناصر عباس نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے مذاکرات کو ایک ڈھونگ قرار دیا اور کہا کہ گورنر راج کا نفاذ پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا، جس کا مقصد تحریک انصاف کو دیوار سے لگانا ہے۔ ماہرین کے مطابق تاریخی تناظر میں خیبر پختونخوا میں اس قسم کے فیصلے ہمیشہ سے پیچیدہ رہے ہیں اور اس کے دور رس نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ قید سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامیوں اور ان کی جماعت کی قیادت کی طرف سے اس فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کا عندیہ دیا گیا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں ملک کی سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔