Pakistan
پاکستان میں مون سون بارشیں اور سیلابی الرٹ، ہلاکتیں 126 ہو گئیں
پاکستان میں مون سون کی حالیہ بارشوں کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 126 تک پہنچ گئی ہے جن میں زیادہ تر اموات کرنٹ لگنے کے باعث ہوئیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریاؤں میں پانی کی بڑھتی ہوئی سطح کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
ملک بھر میں جاری مون سون کی تباہ کن بارشوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 126 تک پہنچ گئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور ناقص شہری انفراسٹرکچر کے باعث ہونے والے ان حادثات میں سب سے بڑی وجہ بجلی کا کرنٹ لگنا ہے، جس سے متعدد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ متعلقہ اداروں کے مطابق بارشوں کے ان سلسلوں نے ملک کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور شہری انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔دوسری جانب، مون سون کے اس نئے ریمور نے جہاں ایک طرف گرمی اور حبس کے ستائے شہریوں کو ریلیف فراہم کیا ہے، وہیں دوسری طرف بڑے شہروں میں نکاسی آب کے مسائل بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ کراچی سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں ہلکی و تیز بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا ہے اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم خراب ترسیلی نظام اور کھڑے پانی کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال نے متعلقہ میونسپل اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔دریں اثنا، بھارت کی جانب سے سلال ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان نے ملک میں ہنگامی طور پر سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این ڈی ایم اے (نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) نے آنے والے دنوں میں دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں خطرناک حد تک اضافے اور ممکنہ سیلابی صورتحال کی پیشگوئی کی ہے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ندی نالوں اور دریاؤں کے قریبی علاقوں سے آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے انتظامات مکمل رکھیں تاکہ کسی بھی جانی نقصان سے بروقت بچا جا سکے۔