LIVE
Loading Breaking News...

ريفارم پارتي كونسلرز كی نسل پرستانه ويڈیوز پر تنقید اور تحقيقات

News Image
برطانوی سیاسی جماعت ریفارم کو اس وقت شدید شرمندگی اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے بعض کونسلرز کو نسل پرستانہ تبصرے کرتے ہوئے فلمایا گیا۔ پارٹی قیادت نے وضاحت کی ہے کہ ان تمام افراد کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جنہوں نے اس واقعے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے یا جنہیں معطل کر دیا گیا ہے۔
برطانوی سیاسی منظر نامے میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب میڈیا پر نشر ہونے والی ایک خفیہ ویڈیو میں ریفارم پارٹی کے چند کونسلرز کو مبینہ طور پر نسل پرستانہ اور تعصب پر مبنی ریمارکس دیتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر سے سیاسی حلقوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور پارٹی قیادت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ وہ اپنی صفوں میں اس قسم کے نظریات رکھنے والے افراد کی موجودگی پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ویڈیوز انتہائی تشویشناک ہیں اور ان میں کیے جانے والے تبصرے معاشرتی ہم آہنگی کے منافی ہیں۔ دوسری جانب، ریفارم پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اس پورے معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ پارٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے فعل میں ملوث تمام افراد کے خلاف اندرونی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے مزید تصدیق کی کہ ویڈیو میں شناخت ہونے والے تمام افراد کو یا تو پارٹی سے معطل کر دیا گیا ہے یا پھر انہوں نے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ قیادت کا عزم ہے کہ پارٹی کے اندر کسی بھی قسم کے نسلی امتیاز یا متعصبانہ رویے کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جائے گی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں گی۔ اس واقعے کے بعد برطانیہ میں سیاسی جماعتوں کے اندر امیدواروں کی جانچ پڑتال کے عمل پر بھی نئے سرے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو ٹکٹ جاری کرتے وقت یا مقامی سطح پر عہدے دیتے وقت افراد کے ماضی اور ان کے خیالات کا گہرائی سے جائزہ لینا چاہیے تاکہ اس طرح کے اسکینڈلز سے بچا جا سکے۔ عوامی سطح پر بھی اس واقعے کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف ان افراد کو سیاسی جماعتوں سے نکالا جائے بلکہ قانون کے مطابق بھی ان کے خلاف کارعمل عمل میں لایا جائے تاکہ معاشرے میں ایک واضح پیغام جا سکے۔