World
برطانیہ کا تارکین وطن کی واپسی پر اریٹریا کیخلاف سخت اقدامات کا انتباہ
برطانوی وزیر داخلہ نے تارکین وطن کی واپسی کے معاہدے میں تعاون نہ کرنے والے ممالک کے خلاف سخت اقدامات کا انتباہ دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ اپنایا جائے گا جو تعاون سے انکار کریں گے۔
برطانوی حکومت نے تارکین وطن کی واپسی کے معاملے پر ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اریٹریا کو ممکنہ پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔ برطانوی وزیر داخلہ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ ان تمام ممالک کے خلاف تذبذب کا شکار نہیں ہوں گی جو تارکین وطن کی واپسی کے معاہدوں اور پالیسیوں میں تعاون کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ برطانوی امیگریشن نظام کو بہتر بنانے اور غیر قانونی تارکین وطن کی باقاعدہ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس عمل میں کسی قسم کی سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔ برطانوی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد ملک کے سرحدی کنٹرول کو مضبوط بنانا اور پناہ کی درخواستوں کے نظام کو منظم کرنا ہے۔ ایسے ممالک جو اپنے شہریوں کی وطن واپسی کے لیے برطانوی حکام کے ساتھ قریبی تعاون کرنے سے کتراتے ہیں، انہیں مستقبل میں سفارتی یا تجارتی سطح پر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اریٹریا کے حوالے سے سامنے آنے والی یہ تازہ دھمکی اس عزم کا تسلسل ہے جس کے تحت برطانوی حکومت غیر قانونی تارکین وطن کی روک تھام اور ان کی فوری بیدخلی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے سخت بیانات سے بین الاقوامی سطح پر تارکین وطن کے مسائل پر بات چیت میں تیزی آسکتی ہے، تاہم اس کے سفارتی تعلقات پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہی لگایا جا سکے گا۔ برطانوی وزارت داخلہ اس بات پر بضد ہے کہ قانون کی بالادستی کو برقرار رکھا جائے اور جن ممالک کے شہریوں کے پناہ کے کیسز مسترد ہو چکے ہیں، انہیں واپس لینے کے لیے متعلقہ حکومتوں پر دباؤ ڈالا جائے گا۔