LIVE
Loading Breaking News...

ڈنمارک کا گرین لینڈ معاملے پر ٹرمپ کے دعوؤں پر دوٹوک موقف

News Image
امریکہ، گرین لینڈ اور ڈنمارک کے درمیان طے پانے والے حالیہ معاہدے میں معدنیات یا تیل نکالنے کے حقوق کو واضح طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ گرین لینڈ کی خودمختاری کو مزید تقویت دیتا ہے اور ٹرمپ کے دعوؤں کے برعکس ہے۔
کوپن ہیگن: ڈنمارک نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ میں تیل اور معدنیات کے حصول کے حوالے سے دیے جانے والے بیانات اور دعوؤں پر کڑا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ڈینش حکام کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کے مستقبل اور اس کے قدرتی وسائل کے حوالے سے امریکہ، گرین لینڈ اور ڈنمارک کے درمیان جو حالیہ معاہدہ طے پایا ہے، اس میں کسی بھی قسم کے تیل نکالنے یا معدنیات کے حقوق کو شامل نہیں کیا گیا۔ یہ معاہدہ بنیادی طور پر علاقائی خودمختاری اور باہمی تعاون پر مرکوز ہے۔ حالیہ سفارتی دستاویزات اور فریقین کے مابین طے پانے والی شرائط کے مطابق، اس معاہدے کا بنیادی مقصد گرین لینڈ کی خودمختاری کو مزید مضبوط کرنا اور خطے میں استحکام لانا ہے۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ گرین لینڈ کے قدرتی وسائل پر صرف یہاں کے مقامی باشندوں کا حق ہے۔ غیر ملکی طاقتوں کی جانب سے اس طرح کے وسائل پر دعوے کرنا خطے کے سیاسی ماحول کے منافی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے معدنی ذخایر میں دلچسپی ظاہر کرنے کا مقصد محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ یا جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ بڑھانا ہو سکتا ہے۔ تاہم، ڈنمارک کی حکومت نے اس معاملے پر کسی بھی قسم کی لچک نہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ گرین لینڈ کی خودمختاری کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ صورتحال بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئے بحث کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے حوالے سے مزید سفارتی مذاکرات متوقع ہیں تاکہ تمام غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے بغیر اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنے وسائل کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔