World
امیگریشن ایجنسی کا خودکار باڈی کیمرہ رپورٹ پر ردعمل
امیگریشن ایجنسی نے حکومتی واچ ڈاگ کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں باڈی کیمرہ پالیسی میں خودکار بہتری کی سفارش کی گئی تھی۔ ایجنسی کا مؤقف ہے کہ موجودہ ضوابط اور طریقہ کار حفاظتی اور آپریشنل ضروریات کے لیے مناسب ہیں۔
امریکی امیگریشن ایجنسی نے حالیہ طور پر ایک اہم حکومتی واچ ڈاگ کی اس رپورٹ کے جواب میں سخت مؤقف اختیار کیا ہے جس میں باڈی کیمرہ پالیسی کو بہتر بنانے کی سفارش کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں تجویز کیا گیا تھا کہ ایسے باڈی کیمرے استعمال کیے جائیں جو خود بخود ریکارڈنگ شروع کر سکیں، تاکہ شفافیت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ تاہم، امیگریشن حکام نے اس تجویز کو تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہوئے اسے فی الحال مسترد کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، واچ ڈاگ کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ کا مقصد ایجنسی کے اہلکاروں کے روزمرہ کے امور میں احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانا تھا۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ خودکار ریکارڈنگ کے نظام سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا غلط فہمی کی صورت میں حقائق تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔ لیکن امیگریشن ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان کے موجودہ طریقہ کار اور پالیسیاں پہلے سے ہی آپریشنل ضروریات کے مطابق بہترین طریقے سے کام کر رہی ہیں۔
ایجنسی کے اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ خودکار ریکارڈنگ سے جڑے کچھ تکنیکی اور عملی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں جن سے روزمرہ کی کارروائیاں متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس کے علاوہ، فنڈز اور عملے کی تربیت کے حوالے سے بھی کچھ تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں جو اس طرح کی بڑی پالیسی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ واچ ڈاگ اور امیگریشن ایجنسی کے درمیان یہ اختلاف مستقبل میں اصلاحات کے عمل کو مزید طویل کر سکتا ہے۔
دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں اور پبلک انٹرسٹ گروپس نے واچ ڈاگ کی رپورٹ کا خیرمقدم کیا تھا اور ایجنسی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی پالیسیوں میں فوری بہتری لائے۔ ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں خودکار باڈی کیمروں کا استعمال شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید بحث اور سیاسی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔