LIVE
Loading Breaking News...

عمان کے وزیر خارجہ کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات اور دوطرفہ تعاون پر گفتگو

News Image
عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے پائیدار سفارتی کردار کی تعریف کی۔ اس دو طرفہ دورے کے دوران دونوں برادر ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے کئی معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
اسلام آباد میں عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی امور اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، عمانی وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے پاکستان کی پائیدار سفارتی کوششوں کا پرجوش اعتراف کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب خطے میں حالیہ کشیدگی اور چیلنجز کے پس منظر میں امن و استحکام کی کوششیں انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور عمان کے مابین مشترکہ عقیدے، تاریخ، ثقافت اور سمندری ہمسائیگی پر مبنی گہرے اور مضبوط برادرانہ تعلقات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے آٹھویں پاک عمان جوائنٹ منسٹریل کمیشن کے کامیاب انعقاد پر گہرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کرے گا۔ وزیراعظم نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ علاقائی اور عالمی مسائل پر دونوں ممالک کے مؤقف میں گہری ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے عمان کا اصول پسندانہ مؤقف قابل تحسین ہے۔ اس سے قبل عمانی وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ پریس کانفرنس کے دوران اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملے قطعی طور پر ناقابل قبول ہیں اور پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے غزہ کے عوام تک بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ دورے کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان ذرائع ابلاغ، تاریخی دستاویزات، اطلاعات کے تبادلے، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سفارتی امور میں تعاون کے لیے مختلف یادداشتوں اور پروٹوکولز پر دستخط کیے گئے، جن سے دونوں برادر ممالک کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔