LIVE
Loading Breaking News...

محمد اورنگزیب اور آئی ایم ایف عہدیدار کی ملاقات، ایندھن سبسڈی پر تبادلہ خیال

News Image
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بینکاک میں آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک سے ملاقات کی جس میں معاشی اصلاحات اور ایندھن پر ہدفی سبسڈی کے امور زیر بحث آئے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ نے کمزور طبقات کے تحفظ اور مالیاتی استحکام کے لیے حکومتی ترجیحات کو اجاگر کیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بینگوک میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے سائیڈ لائنز پر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک سے اہم ملاقات کی۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد پاکستان کی معاشی ترقی، اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط پر تفصیلی گفتگو کرنا تھا۔ ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے ایندھن پر دی جانے والی ہدفی سبسڈی کے حوالے سے تفصیلات پیش کیں۔ حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں موٹر سائیکلوں، آٹوز اور آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے پہلے ہی ایندھن سبسڈی اسکیم کا آغاز کر رکھا ہے۔ ملاقات میں پاکستان کی معاشی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر خزانہ نے فنڈ کی شراکت داری کو سراہا اور اصلاحات کے تسلسل کے لیے مضبوط سیاسی عزم پر زور دیا۔ وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، مسلسل تین سال تک بنیادی سرپلس اور قرضے کے جی ڈی پی سے تناسب میں کمی جیسے مثبت اشاریوں کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بین الاقوامی سرمائے کی منڈیوں میں پاکستان کی واپسی اور سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت کا بھی خصوصی طور پر حوالہ دیا۔ آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام نے معاشی استحکام کے لیے مناسب ذخائر اور مضبوط محصولات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ انسانی سرمائے، بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ ایک دوسری ملاقات میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی محکمہ خارجہ کے سفیر ہیو یون سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون، تجارتی فریم ورک اور توانائی کے تنوع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے اور کمزرو صارفین کو سہولت دینے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ ملاقات کے دوران فنانس ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے معاملات، ریکوڈک منصوبے، اہم معدنیات پر تعاون اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے مواقع کا بھی احاطہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہوابازی کے شعبے اور ڈیجیٹل اثاثہ جات کی ریگولیشن کے امور پر بھی مفصل گفتگو ہوئی۔