World
نیوی پلے کا ٹرمپ کی آئی سی سی پر پابندیوں کو غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ
نوبیل امن انعام یافتہ نیوی پلے نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بین الاقوامی قانون کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ دنیا بھر میں انسانی حقوق اور عالمی قانون کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
نوبیل امن انعام یافتہ نیوی پلے نے بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر عائد کردہ 'غیر قانونی' پابندیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کو بین الاقوامی قانون کے بارے میں سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں 85 سالہ سابق جج نے یہ بھی کہا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ آئی سی سی پر امریکی پابندیوں کا اعلان ان کا نوبیل انعام جیتنے کے چند گھنٹے بعد کیا گیا، جو اس بات کا ردعمل تھا کہ یہ ایوارڈ صدر ٹرمپ کو نہیں دیا گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کا ٹرمپ کے لیے کیا پیغام ہے، تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنے قانونی مشیروں کو طلب کریں تاکہ وہ انہیں بتائیں کہ بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے۔
امریکہ نے گزشتہ روز آئی سی سی پر ایسی پابندیوں کا اعلان کیا تھا جن کا مقصد جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات چلانے والی اس عدالت کے روزمرہ کے امور کو مفلوج کرنا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس عدالت کو 'اینٹ سے اینٹ بجا کر' ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، کیونکہ وہ اس بات پر طیش میں ہیں کہ عدالت کے ججوں نے غزہ میں مبینہ جرائم پر اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ نیوی پلے نے نشاندہی کی کہ سابق امریکی انتظامیہ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ گرفتاری کا خیرمقدم کیا تھا، جو کہ سراسر منافقت اور دوہرے معیار پر مبنی رویہ ہے۔
نوبیل انعام یافتہ شخصیت نے ان اسرائیلی حکام کو بھی کڑے ہاتھ لیا جنہوں نے ان کے نوبیل انعام پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ نیوی پلے نے اقوام متحدہ کے اس کمیشن کی سربراہی کی تھی جس نے گزشتہ سال یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے۔ نیتن یاہو نے انہیں 'متعصب' قرار دیا جبکہ اسرائیلی وزارت خارجہ نے توہین آمیز تبصرہ کیا۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بہت تکلیف دہ اور توہین آمیز ہے، کیونکہ نازی پروپیگنڈسٹ جوزف گوبلز کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی زندگی میں ہمیشہ لوگوں کو مشکلات پر قابو پاتے دیکھتی رہی ہیں، اس لیے انہیں پورا یقین ہے کہ ایک دن نیتن یاہو بھی انصاف کے کٹہرے میں آئیں گے۔
اپنی عمر اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نیوی پلے نے کہا کہ وہ اس خبر کو ابھی تک ہضم کر رہی ہیں کہ انہوں نے یہ انعام جیت لیا ہے۔ 85 سال کی عمر میں انہیں خدشہ ہے کہ وہ بین الاقوامی انصاف کے فروغ کے لیے اب اس طرح دنیا بھر کا سفر نہیں کر پائیں گی جس طرح وہ ماضی میں اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی حیثیت سے کرتی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ بارہ ملین سویڈش کراؤن کے اس انعام کا کچھ حصہ ان کے آبائی ملک جنوبی افریقہ میں تعلیم کے فروغ اور بچوں کی بہتری کے لیے خرچ کیا جا سکتا ہے تاکہ نوجوان نسل کو بہتر مواقع مل سکیں۔