Pakistan
کے پی پولیس انتظامی عملہ رسک الاؤنس، فیڈرل کانسٹی ٹیوشن کورٹ کا فیصلہ
فیڈرل کانسٹی ٹیوشن کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کا انتظامی عملہ رسک الاؤنس کا حق دار نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ یونیفارم یافتہ پولیس اہلکاروں اور منسٹریل عملے کے فرائض میں واضح فرق ہے۔
اسلام آباد: فیڈرل کانسٹی ٹیوشن کورٹ (FCC) نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کا انتظامی اور منسٹریل عملہ رسک الاؤنس کا حق دار نہیں ہے۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پشاور ہائیکورٹ کے منگورہ بنچ کے 10 اپریل 2025 کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا جس کے ذریعے پولیس کے انتظامی عملے کو یہ الاؤنس دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ میدان میں خدمات انجام دینے والے یونیفارم یافتہ پولیس اہلکاروں اور محکمے کے اندر کلرک یا انتظامی امور انجام دینے والے ملازمین کے فرائض میں بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ عدالت کے مطابق پولیس ایکٹ 2017 اور کے پی پولیس ڈیپارٹمنٹ منسٹریل سروس رولز 1974 کے تحت دونوں کیٹیگریز کے لیے سروس کے اصول اور ضوابط یکسر مختلف ہیں۔
مقدمے کی سماعت کے دوران ملازمین کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ محکمے کے دیگر افراد کو رسک الاؤنس دیا جا رہا ہے لہذا انہیں اس سے محروم رکھنا آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مساوات کے بنیادی اصول اور امتیاز کے خلاف ہے۔ تاہم عدالت نے اس مؤقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 25 معقول درجہ بندی کی اجازت دیتا ہے اور اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ مختلف نوعیت کے فرائض سرانجام دینے والے تمام ملازمین کو یکساں مراعات دی جائیں۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ رسک الاؤنس کسی خاص ڈیوٹی کی نوعیت، خطرات اور کردار کی بنیاد پر منظور کیا جاتا ہے اور محض ایک ہی محکمے سے وابستہ ہونے کی بنیاد پر ہر ملازم اس کا خود بخود حق دار نہیں بن جاتا جب تک کہ ان کی ڈیوٹی کی نوعیت یکساں نہ ہو۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ دونوں طبقات کے فرائض یکسر مختلف ہیں۔ یونیفارم یافتہ اہلکار سکیورٹی اسائنمنٹس، چھاپوں، کرائم کنٹرول اور فزیکل خطرات کے حامل امور انجام دیتے ہیں جبکہ منسٹریل عملہ دفتری اور انتظامی امور تک محدود ہوتا ہے۔ فیڈرل کانسٹی ٹیوشن کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ محکمے میں امتیاز کا دعویٰ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک بنیادی فرائض اور سروس کی شرائط کی یکسانیت ثابت نہ ہو۔ اس تشریح کے ساتھ عدالت نے متعلقہ درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کے پی پولیس کے انتظامی عملے کی رسک الاؤنس کے حصول کی اپیل خارج کر دی۔