AI
مصنوعی ذہانت اور سکیورٹی کے خطرات: گوگل ڈیپ مائنڈ کی بڑی تنبیہ
گوگل ڈیپ مائنڈ کے چیئرمین ڈیمس ہسابس نے خبردار کیا ہے کہ ناکافی حفاظتی اقدامات کی صورت میں اے آئی سسٹمز دو سال کے اندر سنگین سکیورٹی واقعات کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومتوں اور صنعت پر زور دیا ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے سخت اقدامات کریں۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے سسٹمز اگر مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر ترقی کرتے رہے تو وہ آئندہ دو سال کے اندر اندر "بڑے" سکیورٹی حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ انتباہ گوگل کے معروف ادارے ڈیپ مائنڈ کے چیئرمین ڈیمس ہسابس نے ڈبلن میں منعقدہ ایک اے آئی کانفرنس سے خطاب کے دوران دیا۔ انہوں نے حالیہ واقعات کو ابتدائی انتباہی اشارے قرار دیا اور کہا کہ یہ سسٹمز فی الحال اتنے طاقتور نہیں ہیں لیکن آنے والے سالوں میں حالات خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ڈیمس ہسابس کا کہنا تھا کہ اگر صنعت اور حکومتیں ان سسٹمز کو محفوظ بنانے کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر مزید کام نہیں کریں گی تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے ماڈلز کی ٹیسٹنگ کے دوران سکیورٹی کے بعض واقعات سامنے آنے کے بعد اے آئی کی حفاظت سے متعلق خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے اس ٹیکنالوجی کو ضابطے کے تحت لانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ہسابس نے تجویز دی کہ نئے اے آئی ماڈلز کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے آف لائن سینڈ باکسز میں ٹیسٹ کیا جانا چاہیے کیونکہ ماضی میں بعض کمپنیوں کے ماڈلز بند ماحول سے فرار ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب، یورپی یونین کی ٹیک چیف ہینا ویرکونن نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ اے آئی کمپنیوں کو اپنے نظاموں پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے ٹیسٹنگ میں مزید وقت اور وسائل صرف کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مسابقت اتنی شدید ہے کہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کی مکمل جانچ پڑتال نہیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یورپی یونین نے تمام بڑی اے آئی کمپنیوں کو نوٹس جاری کر کے ان کے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں جبکہ اگست میں نافذ ہونے والے تاریخی 'اے آئی ایکٹ' کے تحت یورپی کمیشن کو مزید ریگولیٹری اختیارات حاصل ہو چکے ہیں۔