LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں نیا فیس لیس ٹیکس نظام اور اس کے اثرات

News Image
حکومت کی جانب سے متعارف کردہ نئے 'فیس لیس' ٹیکس نظام کا مقصد انسانی صوابدید اور رشوت ستانی کا خاتمہ کرنا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل الگورتھم کے دور میں شفافیت اور ٹیکس دہندگان کے حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے منظور کیے جانے والے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کے نفاذ کے بعد ملک میں ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس نظام کا بنیادی مقصد روایتی اور کلاسک ٹیکس وصولی کے طریقوں کو ختم کر کے ایک ایسے مرکزی اور ڈیجیٹل 'فیس لیس' نظام کو فروغ دینا ہے جو انسانی صوابدید کی گنجائش کو کم سے کم کر سکے۔ نئے فنانس بل کے تحت اس ماڈل کو قانونی حیثیت دی گئی ہے جس کے بعد سیلز ٹیکس ایکٹ، انکم ٹیکس آرڈیننس اور کسٹمز ایکٹ میں ترامیم کی گئی ہیں۔ اس اصلاحات کا سب سے بڑا فائدہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ اب انفرادی ٹیکس افسران کے اختیارات کو محدود کر کے تمام معاملات کو الگورتھم کے ذریعے خودکار طریقے سے چلایا جائے گا، جس سے افسران اور ٹیکس دہندگان کے درمیان براہ راست رابطے کا خاتمہ ہوگا۔ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق یہ اصلاحات ایک انتہائی سنجیدہ مسئلے کے جواب میں لائی گئی ہیں، کیونکہ ہزاروں افراد کی جانب سے بینک کھاتوں میں بھاری رقوم ہونے کے باوجود صفر آمدنی ظاہر کیے جانے کے انکشافات سامنے آئے تھے۔ ایسی صورتحال میں آڈٹ کے عمل کو سنٹرلائز کرنا اور الگورتھم کے ذریعے کیسز کی تقسیم ایک قابل دفاع قدم معلوم ہوتا ہے۔ تاہم، اس تمام تر ڈیجیٹل تبدیلی کے باوجود ماہرین اور محققین کی طرف سے کچھ بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ اگر کوئی کاروبار کسی خودکار الگورتھم کے تحت غیر منصفانہ طور پر جرمانے کا شکار ہوتا ہے یا اس کا ریفنڈ روکا جاتا ہے، تو اس کے پاس شنوائی کا کون سا مؤثر اور فوری راستہ دستیاب ہوگا؟ کیا ایک بے نام سافٹ ویئر یونٹ کے فیصلوں کو چیلنج کرنا آسان ہوگا یا یہ اختیارات محض ایک نئی شکل اختیار کر چکے ہیں؟یہ بات درست ہے کہ روایتی فرنٹ لائن کرپشن اور ہراسانی سے بچنے کے لیے ڈیجیٹائزیشن ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس سے صوابدیدی اختیارات مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے بلکہ وہ غائب ہو کر ڈیٹا ماڈل اور سنٹرل ڈیٹا ہب کے ڈیزائن میں پوشیدہ ہوجاتے ہیں۔ انسانی چہرہ تو بدعنوانی کا سامنا کرتے ہوئے پہچانا جا سکتا ہے لیکن بلیک باکس الگورتھم کے اندر چھپی ہوئی خرابی یا تعصب کو ثابت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے اگر حکومت واقعی اس نظام کو انصاف پر مبنی بنانا چاہتی ہے تو اسے چند بنیادی تقاضوں کو یقینی بنانا ہوگا۔ سب سے پہلے، نیشنل اسیسمنٹ ونگ کو یہ پابند کرنا ہوگا کہ وہ ٹیکس دہندگان کو ان کے فیصلوں کی واضح وجوہات فراہم کرے تاکہ وہ ان کا دفاع کر سکیں۔ اس کے علاوہ اپیل کے نظام کو بھی تیز اور شفاف بنانا ہوگا تاکہ سست روی پرانے نظام کی طرح برقرار نہ رہے۔اس تمام عمل میں چھوٹے کاروباری حضرات اور نئے تاجروں کے حقوق کا خاص خیال رکھنا ناگزیر ہے۔ بڑے کارپوریٹس کے پاس تو مہنگے ماہرین اور وسائل کی فراوانی ہوتی ہے لیکن ایک چھوٹا کاروباری شخص ای فئلنگ اور پیچیدہ ڈیجیٹل تقاضوں سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت محدود رکھتا ہے۔ فیلڈ آپریشن ونگ کا کردار اگر صرف نفاذ تک محدود رہا اور سہولت کاری کو پسِ پشت ڈال دیا گیا تو یہ نیا نظام صرف بڑے اداروں کے لیے ہی سودمند ثابت ہوگا۔ پاکستان کو محض ایک فیس لیس ٹیکس انتظامیہ کی نہیں بلکہ ایک ایسے شفاف نظام کی ضرورت ہے جہاں احتساب کا عمل بھی ساتھ چلے اور ٹیکس دہندگان کے قانونی حقوق پوری طرح محفوظ ہوں۔