LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں بچوں کا آن لائن استحصال: اقوام متحدہ کی تشویشناک رپورٹ

News Image
ایک نئی تحقیق کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے آن لائن استحصال کا شکار بننے والے بچوں کی تعداد پندرہ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے مصنوعی ذہانت اور عالمی بحرانوں کو بچوں کی سلامتی کے لیے ایک نیا اور سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایک تازہ ترین تحقیقی مطالعے میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً پندرہ لاکھ بچے ایک ہی سال کے دوران ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے ہونے والے جنسی استحصال یا زیادتی کا شکار ہوئے۔ اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور دنیا بھر میں جاری پیچیدہ بحرانوں کی وجہ سے بچوں کو نئے اور سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ بچوں کے خلاف تشدد سے متعلق سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ نجاح معلیٰ مجید نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی آخری رپورٹ پیش کرتے ہوئے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ متعدد بحرانوں کا شکار بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کو مزید موثر بنائیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں اس تاثر کو غلط ثابت کیا گیا ہے کہ آن لائن زیادتی یا استحصال زیادہ تر اجنبی افراد کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ بچوں کی جانب سے بتائے گئے واقعات میں سے پچاسی فیصد میں مجرم کوئی ایسا شخص تھا جسے وہ پہلے سے جانتے تھے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کو آن لائن استحصال کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ڈیجیٹل پلیٹ فارم قرار دیا گیا ہے جہاں چھیالس فیصد واقعات رپورٹ ہوئے۔ خوف، بدنامی اور گھر والوں کی طرف سے ممکنہ سخت ردعمل کی وجہ سے اکثر بچے مدد حاصل کرنے سے کتراتے ہیں۔ متاثرہ بچوں میں یہ ڈر پایا جاتا ہے کہ انہیں خاندان کی طرف سے الزام کا سامنا کرنا پڑے گا یا ان پر مزید پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔ یونیسف اور دیگر اداروں کی اس مشترکہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں بارہ سے سترہ سال کی عمر کے ہر سولہ میں سے ایک بچے کو آن لائن استحصال کا کم از کم ایک بار سامنا کرنا پڑا۔ اس سنگین مسئلے میں نامناسب تصاویر یا ویڈیوز کا بغیر اجازت شیئر کیا جانا، جنسی نوعیت کے مطالبات اور آن لائن بلیک میلنگ جیسے معاملات شامل ہیں۔ بچوں کی بڑی تعداد نے خوف یا سماجی دباؤ کی وجہ سے اس معاملے پر کسی سے بات نہیں کی اور نہ ہی کسی سرکاری یا رسمی ہیلپ لائن، سوشل ورکر یا پولیس سے رابطہ کیا۔ رپورٹ میں پاکستان کے قانونی اور حفاظتی نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ متاثرہ بچوں کے لیے محفوظ، رازدارانہ اور آسان رپورٹنگ کے نظام کو یقینی بنایا جائے۔ یہ صورتحال غربت، نقل مکانی اور بنیادی سہولیات تک رسائی میں کمی جیسے وسیع تر چیلنجز کا بھی ایک حصہ ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خوراک کی کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی دنیا بھر میں بچوں کو مزید غیر محفوظ بنا رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے خطے میں بھی بچوں کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرے اور ساتھ ہی ان تمام سماجی و معاشی مسائل کا حل نکالے جو بچوں کو مناسب تحفظ سے محروم کر رہے ہیں۔