LIVE
Loading Breaking News...

جاپان اور امریکہ کا مشترکہ ین مداخلت کا اعلان، کرنسی مارکیٹ میں ہلچل

News Image
ذرائع کے مطابق جاپان اور امریکہ مشترکہ طور پر کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے جاپانی ین کی قدر میں گراوٹ کو روکنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ اس قدم کا مقصد طویل عرصے سے کمزور ہوتے ہوئے ین کو استحکام فراہم کرنا اور مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال کرنا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جاپان اور امریکہ جلد ہی جاپانی ین کی قدر کو استحکام دینے کے لیے ایک مشترکہ مداخلت کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد حالیہ مہینوں میں جاپانی کرنسی کو درپیش شدید دباؤ اور قدر میں مسلسل کمی کے رجحان کو ختم کرنا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی مالیاتی اور مرکزی حکام کے درمیان اس حوالے سے اہم مشاورت مکمل ہو چکی ہے، جس کے تحت منڈی میں بڑی مقدار میں ین کی خرید و فروخت کی جائے گی۔ حالیہ ہفتوں میں امریکی اور جاپانی حکام کی طرف سے اشارے ملے تھے کہ کرنسی کی غیر مستحکم قدر عالمی معیشت اور تجارتی توازن کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ اور فیڈرل ریزرو کے اقدامات سے اس بات کو تقویت ملی ہے کہ دونوں معاشی پاور ہاؤسز مل کر کرنسی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس مشترکہ لائحہ عمل سے نہ صرف ین کی قدر میں بہتری آئے گی بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا جو کہ عالمی مالیاتی منڈیوں کے استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس ممکنہ مداخلت کے نتیجے میں فاریکس مارکیٹ میں نمایاں ہلچل دیکھی جا رہی ہے اور سرمایہ کار احتیاط برت رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر دونوں ممالک اس منصوبے پر باضابطہ عمل درآمد کرتے ہیں تو یہ حالیہ برسوں میں کرنسی کے محاذ پر سب سے بڑے اقدامات میں سے ایک ہوگا۔ اس سے جاپانی معیشت کو بھی ایک نیا سہارا ملے گا جو طویل عرصے سے مہنگائی اور کرنسی کے زوال کے چیلنجز سے نبردآما ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مشترکہ اعلان کے عالمی تجارت اور شیئر مارکیٹوں پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔