World
غزہ میں اسرائیل کی طرف سے مصنوعی ذہانت اور ڈرونز کا استعمال
اسرائیلی فوج غزہ میں انسانوں کو نشانہ بنانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سسٹمز اور کوواکپٹرز کا اندھا دھند استعمال کر رہی ہے۔ لاوینڈر اور وئیرز ڈ্যাڈی جیسے سسٹمز کے ذریعے بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں اور تباہی ریکارڈ کی گئی ہے۔
غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) کے سسٹمز کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی افواج نے اپنے فوجیوں کو محفوظ رکھنے اور فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے لیے جدید کواڈ کاپٹرز اور مختلف اے آئی سسٹمز کا جال بچھا رکھا ہے۔ اسٹریٹجک سطح پر استعمال ہونے والے ان سسٹمز میں 'لاوینڈر'، 'وئیرز ڈ্যাڈی' اور 'ہیبسورا' شامل ہیں، جنہوں نے غزہ کے لاکھوںسیلانوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے اور بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، 'لاوینڈر' نامی اے آئی سسٹم کو حماس اور اسلامی جہاد کے مشتبہ ارکان کی نشاندہی کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، تاہم اس میں انسانی نگرانی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس نظام میں غلطی کا تخمینہ دس فیصد تک لگایا گیا تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ ہزاروں بے گناہ شہری بھی اس کی زد میں آئے۔ جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں اسرائیلی حکام نے اس بات کی اجازت دی تھی کہ جونیئر سطح کے جنگجوئوں کو نشانہ بناتے وقت پندرہ سے بیس شہریوں کی ہلاکت کو بھی نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ 'وئیرز ڈ্যাڈی' اور 'ہیبسورا' جیسے خودکار سسٹمز نے گھروں اور عمارتوں کو ٹارگٹ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہیبسورا کو 'دی گوسپل' بھی کہا جاتا ہے، جس نے غزہ کے ہسپتالوں، سکولوں اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنانے میں مدد فراہم کی۔ اسی طرح 'برڈ آف پرے' جیسے کواڈ کاپٹرز نے حقیقی وقت میں ہائی ریزولوشن ویڈیوز فراہم کرکے درست اہداف کو نشانہ بنانے کا عمل آسان کیا۔ ان ہلاکت خیز ٹیکنالوجیز کے استعمال کی وجہ سے غزہ کا تراسی فیصد سے زائد بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے اور ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔