Pakistan
مراد سعید افغانستان سے کے پی حکومت چلا رہے تھے، رانا ثناء اللہ کا انکشاف
مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید افغانستان میں موجود ہیں اور وہیں سے خیبر پختونخوا کی حکومت کو کنٹرول کر رہے تھے۔ انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار مراد سعید اور عاطف خان کو ٹھہرایا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور مشیر وزیر اعظم رانا ثناء اللہ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے روپوش رہنما مراد سعید افغانستان میں موجود ہیں اور وہیں سے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو کنٹرول کر رہے تھے۔ رانا ثناء اللہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی حلقوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے پاس تمام دستخطی اور مصدقہ شواہد موجود ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ صوبائی معاملات کو چلانے کے لیے ہدایات بیرون ملک سے دی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت نے ان الزامات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے رانا ثناء اللہ کے دعوؤں کو بے بنیاد اور سیاسی انتقام کی ایک اور کڑی قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت ناکام مذاکرات کی ذمہ داری سے بچنے کے لیے اس طرح کے من گھڑت اور بے بنیاد بیانات کا سہارا لے رہی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے پرعزم ہے اور اس طرح کے پروپیگنڈے سے کارکنان کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ اس تمام صورتحال نے ملک کی سیاسی فضا کو مزید کشیدہ کر دیا ہے جہاں حکومتی اور اپوزیشن اتحاد ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے میں مصروف ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے تناظر میں دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کے دروازے مزید بند ہوتے جا رہے ہیں، جس سے ملکی معیشت اور استحکام پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ محاذ آرائی آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے کیونکہ دونوں اطراف سے جارحانہ بیانات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔