Business
زراعت اور ہاؤسنگ فنانسنگ معاشی ترقی کے لیے ناگزیر: وزیراعظم
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے زراعت، ہاؤسنگ اور ایس ایم ایز کے لیے مالیاتی رسائی سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر انہوں نے 2028 تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے 2.2 ٹریلین روپے کے مالیاتی ہدف کا اعلان کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں کے لیے بروقت مالی اعانت ملک میں پائیدار معاشی ترقی اور خوشحالی کی کلید ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زراعت، ہاؤسنگ اور ایس ایم ای سیکٹرز کے لیے مالیاتی رسائی سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں کسانوں، چھوٹے کاروباری حضرات اور گھر وں کے مالکان کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے تمام کمرشل بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان شعبوں میں قرضوں کی فراہمی کا دائرہ کار وسیع کریں تاکہ نچلی سطح تک معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ اس موقع پر حکومت نے سال 2028 تک ایس ایم ای (SME) فنانسنگ کا ہدف بڑھا کر 2.2 ٹریلین روپے مقرر کیا ہے، جو ملک میں چھوٹے کاروبار کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا۔ حکومت کا مقصد اس اقدام کے ذریعے نوجوانوں اور چھوٹے کاروباری طبقے کو بااختیار بنانا ہے۔ دوسری جانب، اپنا گھر اسکیم کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن کے تحت ہاؤسنگ لون کے حصول کے لیے درکار دستاویزات کی تعداد کم کر کے صرف پانچ کر دی گئی ہے جبکہ درخواست پر عمل درآمد کی زیادہ سے زیادہ حد 15 دن مقرر کی گئی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ زرعی شعبے اور ہاؤسنگ انڈسٹری کو فنانسنگ فراہم کرنے سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئے گی جو مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں اضافے کا باعث بنے گی۔ حکومت ملک کے مالیاتی نظام کو زیادہ عوام دوست بنانے کے لیے پرعزم ہے۔