LIVE
Loading Breaking News...

آبِ ہرمز میں کارگو جہاز پر حملہ اور ڈوبنے کا واقعہ

News Image
آبِ ہرمز کے قریب ایک کارگو جہاز کو نامعلوم پراجیکٹائل حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں لگنے والی آگ کے باعث وہ ڈوب گیا۔ اس واقعے کے بعد خطے میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور عالمی سپلائی چین کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آبِ ہرمز میں ایک بار پھر کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جہاں حالیہ حملوں کے نتیجے میں ایک کارگو جہاز سمندر برد ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، آبِ ہرمز کے قریب سفر کرنے والے اس کنٹینر جہاز کو ایک پراجیکٹائل یا میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس کے فورا بعد جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ عملے کی جانب سے آگ بجھانے کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن نقصان اتنا شدید تھا کہ جہاز پانی میں ڈوب گیا۔ سنگاپور اور دیگر بحری حکام نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے جہاز کے ڈوبنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سمندری خطے میں حالیہ ہفتوں کے دوران تجارتی جہازوں پر حملوں کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے جہاز رانی کے اداروں نے اپنے روٹس تبدیل کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبِ ہرمز دنیا کے تیل کی ترسیل کی سب سے بڑی شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں اس نوعیت کے حملے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ ان حملوں کے بعد سے بیمہ کمپنیوں نے بھی خطے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے خطرے کے ریٹ بڑھا دیے ہیں، جس سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ پیش رفت کے بعد خطے میں موجود عالمی بحری افواج اور دفاعی ماہرین صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ متعلقہ ممالک کے حکام نے جہازوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مشاورت شروع کر دی ہے تاکہ بین الاقوامی پانیوں میں بحری تجارت کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے بھی تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ معصوم عملے کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور عالمی تجارت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔