LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی روپیہ اور معاشی چیلنجز، ماہرین کی آراء

News Image
بھارتی روپے کی قدر کو سہارا دینے کے لیے معاشی ماہرین نے شرح سود میں اضافے اور ٹیکسوں میں کمی کی تجاویز دی ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھارتی کرنسی میں اتار چڑھاؤ کے بعد مرکزی بینک کے اقدامات پر بھی مارکیٹ کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھارتی روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لیے معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے مشورہ دیا ہے کہ حکومت کو شرح سود میں اضافے اور ٹیکسوں میں چھوٹ جیسے سخت اقدامات پر غور کرنا چاہتیا۔ حالیہ دنوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے جس کے بعد ماہرین کی جانب سے یہ نئی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ بلومبرگ اور دیگر مالیاتی ذرائع کے مطابق، بھارتی مرکزی بینک ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے کرنسی کی حمایت کے باوجود مارکیٹ میں استحکام کے لیے مزید پالیسی اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرمائے کے انخلاء اور عالمی معاشی دباؤ کے پیش نظر روپے کو سہارا دینا مرکزی بینک اور حکومت کی مشترکہ ذمہ داری بن چکا ہے۔ بینکوں کی جانب سے غیر ملکی کرنسی نان ریزیڈنٹ اکاؤنٹس کے حوالے سے ضوابط میں وضاحت طلب کی گئی ہے تاکہ زرمبادلہ کے نئے قوانین کے تحت بہتر حکمت عملی اپنائی جا سکے۔ تجارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو برآمدات اور درآمدات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے ملکی معیشت کی رفتار سست ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب، حال ہی میں بھارتی روپے میں معمولی بہتری بھی دیکھی گئی ہے جب مرکزی بینک کی مبینہ مداخلت کے بعد کرنسی نے کچھ پوائنٹس کا اضافہ حاصل کیا۔ ٹریڈرز کا کہنا ہے کہ آر بی آئی کی طرف سے کرنسی مارکیٹ میں جاری نگرانی اور مداخلت کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں، تاہم پائیدار استحکام کے لیے طویل مدتی معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ معاشی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے مالیاتی پالیسیوں میں توازن پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔