LIVE
Loading Breaking News...

کیا بچوں کے لیے پروٹین پاؤڈر کا استعمال درست ہے؟ ماہرین کے مشورے

News Image
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں اور نوعمر افراد کو پروٹین سپلیمنٹس کے بجائے متوازن خوراک پر توجہ دینی چاہئے۔ بچوں کے لیے پروٹین پاؤڈر کا زیادہ استعمال ان کی صحت کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔
آج کل کے دور میں فٹنس اور باڈی بلڈنگ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے کم عمر بچے اور نوعمر افراد بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اکثر والدین کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ کیا بارہ سال یا اس سے کم عمر کے بچوں کو پروٹین پاؤڈر یا دیگر سپلیمنٹس کا استعمال کرانا چاہئے یا نہیں۔ اس حوالے سے جب طبی ماہرین اور غذائی ماہرین سے بات کی گئی تو ان کا یہی کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی عمر کے بچوں کو اس طرح کے مصنوعی سپلیمنٹس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ماہرین کے مطابق، بچوں اور نوعمر افراد کے لیے قدرتی غذا ہی پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاء حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ گوشت، انڈے، دودھ، دالیں اور سبزیاں ایسی قدرتی غذائیں ہیں جو بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ جب بچے بلا ضرورت یا بغیر کسی ڈاکٹر کے مشورے کے پروٹین پاؤڈر کا استعمال شروع کر دیتے ہیں، تو اس سے ان کے گردوں اور ہاضمے کے نظام پر غیر ضروری دباؤ پڑ سکتا ہے، جو طویل عرصے میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر کسی بچے کو کھیلوں یا دیگر جسمانی سرگرمیوں کی وجہ سے اضافی توانائی یا پروٹین کی ضرورت محسوس بھی ہو، تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ کسی مستند ماہرِ غذائیت یا ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔ ماہرین ہمیشہ یہ ترجیح دیتے ہیں کہ قدرتی کھانوں میں تبدیلی کر کے ہی بچوں کی غذائی ضروریات کو پورا کیا جائے تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ سائیڈ ایفیکٹ سے محفوظ رہ سکیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ مارکیٹ میں دستیاب پروٹین پاؤڈر کی تشہیر سے متاثر ہونے کے بجائے اپنے بچوں کی خوراک پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں صحت مند عادات اپنائیں سکھائیں۔