LIVE
Loading Breaking News...

کینیا میں ایبولا کی تیاریوں پر سوالات اور طبی خامیوں کا انکشاف

News Image
کینیا میں سامنے آنے والے ایبولا کے خدشات نے ملک کے دور دراز علاقوں میں طبی اور ہنگامی تیاریوں کے فقدان کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف دارالحکومت نیروبی تک محدود اقدامات وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں۔
کینیا میں حال ہی میں سامنے آنے والے ایبولا کے ممکنہ کیسز اور اس سے جڑے خدشات نے ملک کے صحت عامہ کے نظام کی تیاریوں پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ دارالحکومت نیروبی میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کچھ بنیادی انتظامات موجود ہیں، لیکن ملک کے دور دراز اور پسماندہ دیہی علاقوں میں اس قسم کی کسی بھی وبا سے نمٹنے کے لیے کوئی مؤثر لائحہ عمل یا طبی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف مقامی انتظامیہ کی کارکردگی کو تنقید کی زد میں لا دیا ہے بلکہ عالمی اداروں کو بھی متنبہ کر دیا ہے کہ وہ خطے میں طبی امداد کی رسائی کو بہتر بنائیں۔ رپورٹس کے مطابق، اس حالیہ خوف و ہراس کے دوران یہ واضح طور پر سامنے آیا ہے کہ دور دراز کے اضلاع میں رہنے والے عوام کو بنیادی طبی سہولیات اور تشخیصی لیبارٹریز تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ کسی بھی وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ابتدائی گھنٹے اور دن انتہائی اہم ہوتے ہیں، لیکن کینیا کے پسماندہ علاقوں میں طبی عملے کی تربیت، حفاظتی آلات (PPE) اور فوری نقل و حرکت کے ذرائع کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی مشکوک کیس سامنے آتا ہے تو مقامی سطح پر افراتفری پھیل جاتی ہے اور بروقت اقدامات کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بین الاقوامی صحت کے اداروں نے کینیا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لے اور وسائل کی تقسیم کو صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رکھے۔ وبائی امراض کسی بھی سرحد یا شہر کی تمیز کے بغیر پھیل سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ گراس روٹ کی سطح پر یعنی دیہات اور چھوٹے قصبوں میں ہنگامی طبی مراکز قائم کیے جائیں۔ اس کے علاوہ مقامی آبادی میں اس بیماری سے بچاؤ اور علامات سے متعلق آگاہی مہم چلانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ بروقت طبی مدد حاصل کر سکیں اور خوف کی فضا کو ختم کیا جا سکے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال سے سبق سیکھتے ہوئے آئندہ کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کر رہے ہیں جس میں دیہی علاقوں کے ہسپتالوں کو اپ گریڈ کرنا اور طبی عملے کو جدید ترین تربیت دینا شامل ہے۔ تاہم، اس منصوبے کی عملی شکل اور اس پر فوری عمل درآمد ہی یہ طے کرے گا کہ کینیا مستقبل میں کسی بھی بڑے عالمی صحت کے بحران سے کتنی اچھی طرح نبردآزما ہو سکتا ہے۔