World
قیس سعید کے سات سالہ معاشی دور کا جائزہ
تیونس کے صدر قیس سعید کے سات سالہ اقتدار کے دوران ملک کو شدید معاشی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری اور سرکاری قرضوں نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
تیونس میں صدر قیس سعید کے اقتدار کو سات سال مکمل ہو چکے ہیں، اور اس طویل عرصے کے دوران ملک کی معاشی صورتحال مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صدر قیس سعید نے معیشت کی بحالی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے کئی وعدے کیے تھے، لیکن زمینی حقائق توقعات کے برعکس انتہائی چیلنجنگ ثابت ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے اور بنیادی اشیائے خوراک کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بیروزگاری کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے نوجوان طبقے میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ نوکریوں کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے نہ صرف ہنرمند افراد بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی ترقی کی رفتار سست ہونے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کی وجہ سے یہ مسائل مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔
حکومت کو ایک اور بڑا چیلنج بڑھتے ہوئے عوامی قرضوں کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں اور قرضوں کی شرائط نے تیونس کے مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ حکومت ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہے، جس کے اثرات براہ راست عام شہریوں پر پڑ رہے ہیں۔ سرکاری اخراجات میں کمی اور ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات کے باوجود مطلوبہ معاشی استحکام حاصل نہیں ہو سکا ہے۔
آنے والے دنوں میں صدر قیس سعید کے لیے معاشی محاذ پر کامیابی حاصل کرنا ایک بڑا امتحان ہوگا۔ عوامی توقعات اور ملکی معیشت کی بحالی کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے سخت اور دور رس پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ اگر بروقت موثر اقدامات نہ کیے گئے تو تیونس کو مزید گہرے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے سیاسی استحکام بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔