World
استنبول میں شدید بارشیں اور سیلاب، 1985 کا ریکارڈ ٹوٹ گیا
ترکیہ کے تاریخی شہر استنبول میں 1985 کے بعد ہونے والی ریکارڈ توڑ اور شدید ترین بارشوں نے نظامِ زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ طوفانی بارشوں کے نتیجے میں سڑکیں ندیم بن گئیں اور متعدد علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ترکیہ کے معاشی اور ثقافتی مرکز استنبول میں ہونے والی موسلا دھار اور ریکارڈ توڑ بارشوں نے شہر کے نظامِ زندگی کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ اور محکمہ موسمیات کے مطابق 1985 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ شہر کو اتنی شدید اور طوفانی بارشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث متعدد اہم شاہراہیں اور علاقے پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ طوفانی بارشوں کے باعث سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں اور پانی کا بہاؤ اتنا تیز ہے کہ گاڑیوں کو بھی اپنے ساتھ بہا کر لے گیا ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں ٹریفک کا نظام مکمل طور پر معطل ہو چکا ہے جبکہ مسافروں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میونسپلٹی اور ریسکیو اداروں نے ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور نشیب میں واقع علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نکاسی آب کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے کیونکہ چند گھنٹوں میں مہینوں جتنی بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں اور آنے والے گھنٹوں میں مزید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر کے انہیں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناگوار واقعے سے نمٹا جا سکے اور متاثرہ افراد کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔