World
میکسیکو: حراستی مرکز آتشزدگی کیس میں سابق عہدیدار بری
میکسیکو کی ایک عدالت نے سنہ 2023 کے مہلک حراستی مرکز میں آتشزدگی کے واقعے میں ملوث سابق امیگریشن چیف کے خلاف مقدمہ ختم کر دیا ہے۔ متاثرہ افراد کے گروپس نے اس عدالتی فیصلے کو منتخب انصاف قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
میکسیکو کی ایک عدالت نے سنہ 2023 میں پیش آنے والے دلخراش حراستی مرکز کے آتشزدگی کے واقعے میں ملوث سابق اعلیٰ امیگریشن عہدیدار کے خلاف جاری مقدمے کو باضابطہ طور پر بند کر دیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور قانونی حلقوں میں بھی اس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس خوفناک واقعے میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے اور اس سانحے نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ اور حراستی مراکز کے حالات پر شدید تنقید کو جنم دیا تھا۔ متاثرہ افراد کے نمائندہ گروپس اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس عدالتی فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے 'منتخب انصاف' قرار دیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے اصل ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے اور سابق مائیگریشن چیف کو اس المناک سانحے سے صریحاً بری الذمہ قرار دینا انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔ دوسری جانب، قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی ہوئی ہے اور وہ اس کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس معاملے نے میکسیکو کے نظامِ انصاف اور حکومتی احتساب پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حراستی مراکز کے اندر حفاظتی انتظامات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے حوالے سے دباؤ ایک بار پھر بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کے لیے انصاف کے حصول کی جنگ لڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔